Skip to main content

امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے ؟ Date: 2020-03-10 امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے ؟ تحریر: سیف العادل احرار طویل انتظار اور اٹھارہ ماہ کے مذاکرات کے بعد بالآخر قطر میں جارحیت کے خاتمے کے معاہدے پر فریقین نے دستخط کر کے افغان تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا منصوبہ پیش کیا، امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا بردار اخوند اور امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے درمیان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بارے میں سمجھوتہ طے ہوا، اس معاہدے میں بین الافغان ڈائیلاگ کا واضح منصوبہ بھی شامل ہے، معاہدے میں افغانستان کے جاری بحران کے دیرپا حل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس معاہدے میں کافی صراحت موجود ہے کہ بحران کے حل کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے؟ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ سے لیکر 10 تاریخ تک امارت اسلامیہ اور کابل انتظامیہ کی جیلوں میں 6 ہزار قیدیوں کا تبادلہ کرنا چاہئے تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کر کے ماحول کو سازگار بنایا جائے اور اس کے بعد دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا ۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی اور اہم معاہدے اور اس کے بعد بین الافغان مکالمے پر افغان عوام نے جس خوشی کا اظہار کیا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے طول و عرض میں عوام نے بھرپور طریقے سے جشن منایا، بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے اور بڑے شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے امارت اسلامیہ کے سفید پرچم اٹھائے تھے اور امن کے حق میں نعرے لگا رہے تھے، افغان عوام پرامید تھے کہ اب ان کے امن خواب کی تعبیر بہت قریب ہے اور ان کا خیال تھا کہ اگر اس معاہدے کو صحیح طریقے سے نافذ کیا گیا تو بین الافغان سطح پر بات چیت 10 مارچ کو شروع ہوگی جس سے ملک میں جاری بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا ۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پہلی بار جس طرح امن کے حوالے سے اتفاق رائے موجود ہے اس میں واحد رکاوٹ اشرف غنی اور ان کے حواری ہیں، اشرف غنی نے کھل کر امن عمل کی مخالفت کی، وہ نہیں چاہتے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن عمل کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچے، کیونکہ اگر امن عمل کامیاب ہوتا ہے تو پھر ان کے ناجائز اقتدار کا سورج غروب ہوتا ہے اور وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ بھی واضح ہے کہ وہ امریکہ کے دباو کے سامنے ٹہر سکیں گے، کیا وہ امریکہ کی مخالفت کرنے کی جرات کریں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ہم نے کئی بار دیکھا کہ امریکہ کے دباو پر ان اپنے ریڈ لائن سے گزر گئے، حال ہی میں انس حقانی کے تبادلے کے حوالے سے انہوں نے سخت موقف اپنایا لیکن پھر امریکہ کی مداخلت پر انہوں نے یوٹرن لیا ۔ کچھ عرصہ قبل اشرف غنی نے کہا تھا کہ وہ قیام امن کے لئے کرسی کیا وہ اپنا سر بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن اب جب عملی اقدامات اٹھانے کا وقت آیا تو انہوں نے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش شروع کی، پوری قوم جانتی ہے کہ امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے، کس مقصد کے لئے اشرف غنی اور ان کے چند حامی امن عمل کی راہ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر پوری قوم کو افسوس ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ان کے اس عمل کی مذمت کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے اشرف غنی نے جارحیت کے خاتمے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور امن راستے کا نقشہ بند کردیا، دوحہ معاہدے کے دن جب افغان عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور اس دن کو افغان عوام نے خیر سگالی کے طور پر یاد کیا اور ہر جانب امن و امان اور خوشحالی کی باتیں ہو رہی تھیں، ملک میں جشن کا سماں تھا اسی وقت اشرف غنی کے نائب امیر اللہ صالح نے قومی ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنگ کو جاری رکھنے، فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کو بند نہ کرنے کا عندیہ دیا ۔ اشرف غنی جنہوں نے کئی ماہ سے پریس کانفرنس نہیں کی تھی ، معاہدے کے ایک دن بعد یکم مارچ کو انہوں نے ہنگامی طور پر اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا، انہوں نے پریس کانفرنس سے قبل یہ تاثر دیا کہ وہ نہایت اہم موضوع پر پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے اس نیوز کانفرنس میں قطر معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن معاہدے کے مطابق قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے، یہ ہماری حکومت کا اختیار ہے، اس میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، اشرف غنی جنہوں نے ماضی میں امریکہ کے مفاد کے لئے واشنگٹن کے تمام احکامات کو تسلیم کیا تھا ، اس بار انہوں نے قیدیوں کے تبادلے کی کھل کر مخالفت کی، کیونکہ اس بار امن اور افغانستان کے مفادات کی باری آئی تھی، اشرف غنی کی اس مخالفت نے امن اور مفاہمت کی فضا کو مخدوش کر دیا اور افغان عوام میں بھی بے چینی پیدا ہوئی اور ہر طرف سے ان پر شدید تنقید شروع ہو گئی ۔ تجزیہ کاروں نے اشرف غنی کی پریس کانفرنس کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام امن عمل کی واضح مخالفت ہے لیکن یہ سوال بھی کیا کہ اشرف غنی امریکہ کا دباو قبول کر سکتا ہے؟ ان کا خیال تھا کہ اشرف غنی جلد امریکہ کی مداخلت پر یوٹرن لے لیں گے اور قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کریں گے، کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی اپنے مفادات کے لئے اتنا بڑا منصوبہ سبوتاژ کریں، امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے اگلے روز اعلان کیا کہ قیدیوں کی رہائی کا وقت آگیا ہے، امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بھی امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا بردار اخوند سے فون پر رابطہ کیا اور دونوں رہنماوں نے 35 منٹ تک امن معاہدے، قیدیوں کی رہائی اور امن عمل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، افغانستان کے لئے روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے بھی قیدیوں کی رہائی پر زور دیا جبکہ ڈاکٹر عبداللہ اور ملک کے دیگر سیاستدانوں نے بھی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی قیدیوں کے تبادلے پر اصرار کیا ۔ اشرف غنی اور ان کے حامیوں نے امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی، اس سلسلے میں انہوں نے 3 مارچ کو ننگرہار میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران جس بازاری زبان کا استعمال کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے، انہوں نے اشتعال پیدا کرنے کے لئے طالبان پر الزامات لگائیں اور کھل کر امن عمل کی مخالفت کی، جس پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ اشرف غنی کے ترجمان نے ٹویٹر پر مسلسل غیر ضروری اور نفرت آنگیز ٹویٹ کر کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور طالبان کے خلاف گستاخانہ زبان کا استعمال کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اشرف غنی کی طرح ان کے ترجمان بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اتنے حواس باختہ ہیں کہ ہر موقع پر امن عمل کی مخالفت کرتے ہیں جس سے ان کا ایجڈا واضح ہوتا ہے ۔ تاہم اشرف غنی اور ان کے گروپ کی واضح مخالفت اور نفرت آنگیز بیانات کے باوجود طالبان نے سنگین پالیسی اختیار کی اور ان کو جواب دینا گوارہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے مفاہمت کے اصول پر عمل کیا اور صرف یہ بیان دیا کہ ہم معاہدے کے تمام نکات پر عمل درآمد کرنے کے لئے پرعزم ہیں، بین الافغان مذاکرات سے قبل قیدیوں کی رہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ہم مذاکرات نہیں کریں گے، اگر قیدیوں کو رہا کیا گیا تو ہماری مذاکراتی ٹیم اور ایجنڈا دونوں تیار ہیں اور اگر وقت مقررہ پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ فریق مخالف پر ذمہ داری عاہد ہوتی ہے

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)