Skip to main content

امارت اسلامیہ کا عزم Date: 2020-03-08 امارت اسلامیہ کا عزم آج کی بات 29 فروری کو امارت اسلامیہ اور امریکہ نے باہمی معاہدے پر دستخط کیے ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں امارت اسلامیہ اور امریکہ نے بین الاقوامی گواہوں کی موجودگی میں کہا کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہیں ۔ اس معاہدے میں امریکہ نے بین الافغان مذاکرات سے قبل امارات اسلامیہ کے پانچ قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے اور امارت ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی لیکن اب کچھ عناصر اس عمل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح اپنی ساکھ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگرچہ کابل انتظامیہ قیدیوں کی رہائی کے عمل میں تاخیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی کو دیکھتے ہوئے کابل انتظامیہ امریکہ کی اجازت کے بغیر کوئی اہم فیصلہ نہیں کر سکتی ۔ معاہدے کے فیصلوں کے مطابق امارت اسلامیہ بین الافغان مذاکرات کے لئے تیار ہے، ایک فعال اور قابل قبول مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے جو اسلامی اقدار اور قومی مفادات کی روشنی میں آگے بڑھے گی لیکن کابل میں کوئی قابل قبول مذاکراتی ٹیم نہیں بنی ہے ۔ ہونا تو یہ چہایے تھا کہ فریق مخالف بین الافغان مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتا لیکن انہوں نے نہ صرف مذاکرات کے لئے راہ ہموار نہیں کیا بلکہ مختلف طریقوں سے بین الافغان مذاکرات کو معطل کرنے کی کوشش کی ۔ امارت اسلامیہ کا موقف ایک اور مضبوط ہے، اس کے فعل اور قول میں کوئی تضاد نہیں ہے، اس کی پوزیشن واضح اور مستحکم ہے اور وہ وعدوں پر کاربند ہے ، ہم دیکھیں گے کہ فریق مخالف اپنے وعدوں پر کتنا عمل درآمد کرے گا اور طے شدہ معاہدے کو یقینی بنانے کے لئے کس حد تک ترجیح دے گا ۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)