Skip to main content

Full text of "Tawiz Ka Sharai Hukm"

See other formats










۱ سح 7 1 
7 ۱ 4 1 : اما ھ طٰٛ ۲ ای بب 
۱ آور ظ٭ر ٦‏ اہ 
فا ر 7ھ و ءا کا و 


حسعصہ جمنعہ فدہ حسعہ حہ عتدہ عصہد ججےے مم ٹ حمےتے سیب 


ت" وی کا شی عم“ 
مصتفش 100 ] حضرت علامہ موڑانا مق 
حر عبرالڈر +7- ۶ت اللہ تقالیٰ علے 
ترصاو نت اک ۃۂکھ _- حضرت علامہ مولانا مغ 
مر جان 2 مرطلہ العالی 
سن اشاععت أومیر۶۱۹۹۵۔ پار اول 
نار 7+0[ یت اشاعت اہ(ست پاستان 
پور مس رکا زی ہازار ءکرا ی۔ 
تحرار اک زا ہزار (١٭٭٠)‏ 


ے وکح سچہ أعثد إجود‫ ریکڑإھ ےسب ے٠‏ ٢٠ں‏ تھے ۔-ٰ 


پل ہے فەفاۓے" گر 2ت معاوِن 


بررلعہ نال طل بک کرتوالے حضرات برا ہکرم ۲ روبے کے ڈاک ملٹ ارسال 
گریں۔ 


ر 


000000000 00000000 0ن0 اف 


”لاہ 


راورتآ تصویڈ کا شسرعی ح انگ 


رون رٹ آزار وق 


ٰ تویز کا شری عم ایے خر زکی الوکھی اور موضوع کے لان سے 
ایک منفر تاب ہے جو مفتی اعم سندجھ حضرت علامہ مولان ملتی مد عبدالڈر 
نی رض ال فقالی نکی رشحات عم مکی سحرکارییں سے جلا اکر صفحہ قریلاس 
بر ابھربی ہے۔ ہہ ایک الیسا معاللہ ےک جس پر مخاٹین نے انی نا عاقبت 
اندی اور جمال تک بناء پر ترام و شرک کا بل ہا ں کر رکھا ھا اور اس 


کار حر کو پیٹ پبرست پچیرول نا ا۔چاوکیا ہوا اور ال پر پی جائے وا ی ارت 


کو ترام سی میں ان افتراء پروازو ںکو ذرا مل و اچمیاہٹ نہیں ہونی تھی۔ 

قبلہر فتی صاحب رضی ال تال نہ کا عوام الیا خصوصا عوام 
ہلت پر دن عکیم سے کر انو ںاج بقل نے بشری عم کے مس کون 
صرف ‏ کہ قرآن و حدیث اور اقوال مح رشن عظام و نما مکرام سے اظمرمن 


۱ الم نگا۔ بللہ ممانشین جن احاریث سے تحویز کے عدم جواز پر.استرلال 


کرتے ہیں ان کے صسی ولشفی ہش جوابات بھی عنایت فیا ہیں۔ 

کاب ہھزا لیک الیے دب کی اعد ےکہ جس سے جوا ککر الشاالڈر 
قتالی تحار بر ے صرف بیکہ تو کا اصل رخ آ_کارا ہو جا ےگ بلہ لہ 
نیز کے جواز پر ممائین ۓ بھوٹ و اترام پردازوں ےگرووغبار وو 
انی ہوثی ہے وہ بھی ججمٹ جات ےگی- 


الد تعالی سے دعا ہ ےکہ وہ حفزت علامیہ مولاتا غتی اٹم ند کی 


امام اہم ام ام اہم اہم اہم ام اہم ام( م1مم 1م ام امام امام رم( م ارام 1۸۱م امم( رم رم ام ام امام ام 


/ 


30300000 8 


۰ 


قرب انار چہ اپی رت و رضوا نکی بارش کا نول فرائے اور جمیں ما اپد ان 
کے فو و برکات سے خی فرائے۔ آئین بیو سید ال رسطین می اش 
قالی علیہ ولم۔ 

ای ماق جم اکن یب عات اواست مازیہ لق 
اع م سیریر حفر اعلامہ مولاا مفتی مر ان سی مد لہ عالی کے بے عد 


ممتون و مفکور ہی ںکہ انموں نے ہیں ا سکتا بک اشاعح کی اجازت مرمت . 


ربا الد تی ان کے عم و عمل اود عمرمیں خحیرو برکت عطا فریائے اور ان 
کے ظل عاطف تکو ہمارے مسروں پر “ا دی دراز راۓے۔ 

حیت اشاعت اہلسحت اس سکتاب کو ای سلسلہ مفت اشاعت 
کے خوش اید خوش دنک پار میں ۳۰۹ یں مولی کے طور بر برونے کا شرف 
حاصل کر دقی, ہے۔ دا ئے قریر سے دعا ہے کہ وہ ایۓ حجیب لیب 
روف و رم علیہ ال الصلاۃ والسلام کے صدتے و یل می تکی اس 
سی کو نول فریاتے ہوئے اسے تا ہرخائس وعام بیائے۔ کین بیاہ سید 


ٰ ارپین صلی ار علیہ وعم۔ 


غلام غوث و رطا 
سیر تر اوسف فارری 


ویش سیگ بیٹری جمحیت اشاعت اہسحت 


ڈدصجھہ ( 6 کک 


س×٣‎ 


مم ۱مم امام ام ۱م ۱۵۱م ۱م ۱۸۱م ۱۸۱م۱م۱م ۱۸۱م۱م۱م ۱م امام ۱م۱م۱م۱م۱م۱م۱م۱م ۶۱ م۱مم 








ب1۱ 0 ر00 00-0000-0000۳000 000ب 


حیاتئئڑی 


از 


ریں اعم رود ڈاکٹ ر محر سور اجر ٰ 
قبںء طری بر 


اع تقائی 


علامہ مق گزر عبرالد یں مر رمضان علیی ا ر7× ٣٣۳ا‏ | ۱۹۳۵ء 
میس ابرا یکران کے عملہ ریگسر اوارہ نیل مقام چاہ با ران ایران مل پیدا 


سج آگئ۔ اور یر (کرای) مس مسل آیاو ہو گئے۔ ہیں بر ملق 
عاح بکی "عم کا آغناز ہواء آپ تے مندرحہ زیل علماء سے علوم علیہ اور 
تقلی بی کیل فرلی:۔ ۱ 
)۱( موزایا عم الہ بش 
(ككػ مولزا حافظ حمد بی خی 
(۱|؛ػ مولانا محمد عحثا ‏ یکمرالی _ 
مك ہج العطداء فی حمد عم نشی مرا آبادی 

اں طرخ مق عاحب ے سترم ٤‏ یا٤٠‏ بلوچچتان اور ہنروحتان 
کے عاء سےکسب فی شکیا۔ مفتی صاحب نے تاج الطاء کے زیر سام 


ہوئے۔. ۱۹۳۵ء مس آپ ہے والد ماجر تق٠ل‏ عکا یکرکے بلوچعانں ے_ 


بس اح اح اح حر ابس ابحر اح اس ابس ارح اس قح ماس انح انح ابس بح اح انح 


وارالطوم رن تی (کرای) سے رورزہ حریث گیا اور ۷۶ء "یں تر 


۱1م ۱۱م ۱م ۱م ۱م ۱۸۱م امام ام رم( 


ط۶ 


دحددددددددددددددددددددددددددددددددددہ 


٤ 


را ھ07 


ص۴ 


ٰ : 
فوع 7 : ۱ طْ 
فراخت اور تار ففیلات حاص لگی- اپ نے ۱۹۵۵ء سے بی صاحبرا کوچ 


می کی اس مد میں عم القرآن کے نام سے مدرسہ تا کیا جہاں اب 
وارالعلوم تقاقم ہے اور خوو ور ریۓ رسے سعد فراخت خاص لکرنے کے 


بنر ۱۹۷۱ء میں یہاں وارالعلوم پر کے قاکمکیا۔ اس ام کو و مم 


بستیں سے لسبت سے نی حضرت بح اعد مرہندی مجر الف خالیٰ علے 


ام اور صدرالافاخل حقرت مواتا مم الین مرا آپاکی ج سوار تم " 


اہلمت کے محلم بٹیٹوا اور رجضا جتھے۔ مفق صاحب جوکہ تقشبندری مجرڑی 
تھے اور جج العطراء کے شاگرو تھے جو حضرت صدرالافاضل علیہ ال رج کے 
یز رشید تھے اس لئ اس نام میں ان مسبوں کا بھی خیال رکھاء اسلام 
میں فو ںکو بڑی اہمیت حاصل ہے جو اس راز ے واقف ہے وہ "یش 


سرفراز ہہوتا ے۔ ۱۹۹۱ء "یں چے را رالعلوم لم ہوا تو مت صاحب نے خوو ْ 
مزدورویں کے سا ہق کا میا اس سے آپ کے اتعلا ایر ے فی کا انرازہ 


ایا چاسلتا ہے۔ جو مارت اتعلائش نیت پر تفاکم ہو وہ بعد ہوٹی ر٘تی ہے۔ 
دارالعلوم کے ساجچھھ سام آ آپ تے وارالعلوم کے ابدر ہی دی مر تر 
کرای جس نے یحو لکو اور ] جزہ اور مقر باأویا- 

فی اجب طلبا کو انی ان سے زیادہ عزیز نے جم اور ال کے 
نپاں و طمام کا پرا اور ضیال رکھت تے۔ ان کے ہ رکا م کو اتے کاموں پر 
مقرم سے تھےہ ان کے ساھ جیل ھک رکھاا وش فراتے> ا نکی ولداری 
می سک یکس امھما خس درکھتےٴ دہ سار ہو جاتے تو آپ بے قرار ہو جائے ٠‏ 


نوز علرح معالی کراتے- لا کو سا یک تع فراتے اور عمل رز دی ۱ 


لہ و تد مرایا پیکر عم تے۔ ہمارے اگگولوںء گاوں اور اون روں میں 
ابی عفن وکریم استاو ڈھویڑے سے بھی میں سمل الا بااء الد سارگی 


×ن س-ےہ 


سے 


۵۵۵22۵2۵۵۵۵۵۵۵ ۵۵ ۵۵۵ ۵۵۳۵0 ۵0200۵0003320200 
02 


ےا 


نا کی اصل احاویں کے ول سے طلبا کی محیت و شذقت کا جم ہوچانا اور 
ان کو مال ارت سچ ھکر ای نع حا لکرن ےکی خوا ہش کا پیدرا چتا 
ے۔ ار تعالی ہمارے استاذو ں کو مفتی صاحب جیے مثالی استادوں مت 
قدم پر جل ہکی توق عطا رز لک وو عم س ےکموارے جو شروضا کا مرک 


راو 


بن گے ان وسکون کا ریشم من جائیں۔ آمین وارالعلوم مچر لئے کا 


ض رفا یل ہے۔ اس مے متعلق شنٹس ملق سید شیات خی فادری 
نے بے اظمار خیال ناما ے۔ 
رس عاتم مخ سرت تق ماک 
کمرامت کا تی ہکا اکنا ے۔ “ 
ملق عاب مل 7 میس حضرت الواج سید عبدانحالن شاہ 
کرای علیہ الرعمن سے بیعت تے اور سلسلہ نشترں میں حضرت ا اج عپرالتہ 
سی سی ری علیہ الرجمۃ سے بیقت جے اور آپ بی سے تعلائت بھی 
واصل تھی گر مفتی صاحب نے خلاذت و اجازت کے پاوجوو پیش بیعت 
کرنے سے اہتزاز فربایا اور طالبوں کو ووسرے شیو حکی طرف مج فرمایا سے 
نکی اکسا یکی یل ہے ال عق صاحب نے اپ خر زانے یں چند 
حضرا تکو بیعت فرمایا تھا- 
۱۹ء میں وہ رٌ بت ایر ریف اور ژیارت 7 شرنفی نکی 
۔عارت سے رہ ور ہوئےٴ سے ری ٴ ٠ج‏ کچھ جو مفتی اشنم اور شزادہ امام 
احید رضا حضرت خغاہ مر معمطفے رضا خخاں بریلوٹی رم النر میا کی ممیت 
مس ادا یا گیا۔ سان ار پور علی ور۔ مفتی صاحب نے کتی ہار عمرہ اور 
زیارت جح نین شی نکی سحارت حاص لکی۔ ۹ء یں وہ ا ران کے وورے 


بر تثریف لے گے اور وہاں ایک ماہ کا طویل سلیٹی دودہکرکے ابی سخت و ۱ 


سر۴ 
سم 
سم 


گر ا رم لم ام لم ام اھ ام ام ام ام ام ام ام (ھ/ھ امم /ہ مھ 1ہ 1ہ 1م امام ام امام مع 


نان نیین|ن‪ٹپننٹنین رنپیرینپئبانپپینٹرنیلرپلناؤئنی۶۰فزانبنیننپنزننانندر 


رو 


جاعت کے مسل فکی اشاعح تگی۔ وہ وی نکی نحدمت میں ماہداۃ کرگرم 
عمل رے۔ انت نی اور ورک و حرش کے علاوہ اگھوں ےے تی 
فی کے ذریعدہ ہڑبی حدم تکگی۔ فنوی ٹوٹھی اتی آمان نہیں ہی لوک 
گت ہیں۔ اس کے لئے سالوں کے مطالحے ہمشاہرے > حنت ٥‏ صقن و 


عدثْؾ کے ذو تقیر و ا کے گر ء نراوار ملاحیت و تقللیت+ ُل و 


جدیر ٤‏ سائل کے خر و امت کے اوراگ؛ عالات اور ماتول کے تقاضوں 
کو مچھن نکی فیاقت اور ہت سے در امو دک یکفوزرت ہو ہے۔ مسائ لکی 
کتایوں اور یں کے مھوعو ں کی روستی میس فی نے والا مفتی تھی بللہ 
غحق زالل ہے جس کے پاس صرف فو لرتے کے سے ععقل ہولی ہے 
کیپنکہ قل کے لئ بھی عقل چا یئ اور اب تو ہہ عتقل بھی عنھا ہوٹی جاردی 
ہے۔ مفتی صاح بکتب تفسرو حدیث اور فقہ بر عبور رکھتے تتے۔ ان کے 
یں سے ا نکی بصیرت و مر صحی کے ساتقہ ساجتہ اخلاص ۶ بے فی اور 


عدل سندی کا بھی اندازہ ہونا ہے اسی لئے وہ عریح انام جھے_ ہٹس مفق 


شاعت لی تقاوری مفتق صاح بکی فوی وی پر اطمار خحیا لکرتے ہوئے 
فریائے ہیں:۔ 

لم تی صا بکی بہ وصیت جح یکہ آپ کے فیای ہاں یا میں 
تک محدود میں تھے بللہ آپ کے فتاوی تمایت بل اور اصو کنب ے 
الا مال ہوتے تے۔ اندروین ستدجھ کے سے وہ بلاشہ ھمتح فنڑی تھے اور 
بڑے اچم نے ان کے ہایس کے 0(۰ " 


فی صاحب فضائل ومالات کا یکر تھے ان کے اساجزہ بھی ان ۱ 


کے بارے میں بلند خیال ریت تھے جس سے ا نکی می عطمت و ببزدگی کا 
یر با ہہ رض 


کرای کے اش مم قلبیت مو بقل 


بس حر حر ساس حر اح اس ارح اح ابس اس اس ام ابس اح بس ابس ابس سر اح اس حر بحم ایح اح بح اح بحم بحم ارح حر بح انح رح س6ا 


۱ 


ٹ۰ت ںیرب 


ےہ 


۳-٦ 


ب 000000 اپننپللسدسبینٹ 


.سے ۴م 


ا 
او نسی اۓ مشاہرات قمبن دکرتے ہوئے عتے ہیں: ۱ 
مس نے ان استار محترم اج العاء مق محمد عمر صاحب یی 
اشرنی ؟ رس از رہ الو یکو موصوت کے عم و فصلء زر و تقویء خوق 
مطالعہ > تنقہ ڈی الدین اور رسول اگرم ک ‏ الہ تالی علیہ وعم سے والماۃ 
عق و محب تک تی فکرتے ہوے بااسا ہے۔ (ضتی محمد عحبدائشد شی 
قریٹی ص ۸۲ ٰ ْ 
مق ماحب باشن رسول صلی اللہ تقاٹی علیہ عم ستھےء معتیہ ککام 


برصز/ 


سن سم نکر و لمگرم رکیت تہ وہ مولانا صن رضا خحاں بریلوگی ری الہ تعالی ۱ 


نہ کا شعر مس یکر خوب جھوت تے۔ ۱ 
یل میں ہو یاد جیی کش حمایل ہ٭ 
بنعر تو خعلوت میں یب اگنن آرال ہو 


اللہ اکبر؛ اب معلوت قبر میں محفل بجی ہے۔ ىہ عشق رسول مکی ائقد 


ای علیہ وسحم ہی ھا ج سکی وج سے سادا تکرا مکی ہت مت مکرتے 
ےہ ان کے اہ وت کہ ا نکو حر مصطلفے صلی اللہ تالی علیہ دم سے 
۸ق تے۔ سای کر امت یی انویں اس راز و 
کن ایز بے ای کک < ھا اور قرآن یم سے بھی سیق تہ لیا مقام 


ای رالمء ناوت سنہ ء پیربنع اوسف ہے سب لسبوں 1 یانگاریں ہیں پللہ خوو 


بیت الہ ریف عا ی میں کا خزاھ ے؛ پیاروں نے بنایاء پیارے ہی 
طوا فتکرتے رے اور جوپر تی دا ہوتے رہے۔ اب ہم طواف 
کررسے ہیںء ان کے نشان تقدم بر چچل رہے ہیں۔ مان ال ! 

عق مصطہ صلی اللہ قالی علیہ وعلم ہی ھا جس نے مفتی 
را فکو عغات نہ کا پیکر جادیا ما۔ وہ بڑے مم اطع تھے اور رم 


٥(‏ ےےہےہہ 


سے 


کے ھک رھ ھ۷ مھ ھ مم مم 2/22/2۸22 ام 2/2 2ع 


رز 


00-0001-010-000000000000000000-000 لاب 


نت 


8 
و مکنگ گرم وم سج “کی جحبق حاکق تصوبر ستے۔ رون والو یکو خود اکر 


ارھصر/ 


ھن کا کرتے تے ٤ب‏ ہفت علاء میس عاء ہولی حاری ہے۔ ایک ہی 


مسڑیں کے علراء آپیں مس روتھے رت ہیں اور عوامم اہ سنت عیران ہلان 
ایک ایک کا منہ گت ہیں بللہ اب تو لقرام میں بھی صلہ رج یکی ىہ مقت 
معدوم ہو جارہی ہے اور خانقادی جھتی کیک تج کو پارہ ہار ہمکردرجی ہیں- 
ٰ مت صاحب٤‏ صاحب تقوی و طہارت تھے ہروفت باوضو رت ھےء 
تقری و پربیزگاری کا ہہ عالم جھاکہ موک مال سے بھی پرہیز فرائے تھے 
اکثر ردارں عیہ حکوم ت کی طرف سے دی جائے وا پی زکول کو تمرف 
داتے ہیں بلکہ کوش کرت ہی ں کہ زیادہ سے زیاوہ زکو٭ لے گھر مفتی 
ماحب نے یہ کول ھی قبول نہ فراقی ا نکی نر میں ا کو قبولکرنے 
و ْ 
)١( ۱‏ لوت غاصاۃ ریت سے زکو و حر وصو لکرپی سے جس 
میں مل یکی ممیت کا وخل میں ج بکہ کول کے لے وینے وا لو ں کی نیت 

رط ہسے۔ 
(۳) زکو ٦‏ کے لئ خلیک شرط سے میجنی ج س کو زکول دبی جائے اس 


کو مالک مادیا جائے۔ ہے حشرط بھی یراں مطقوو ہے۔ 


)٥(‏ زکولۃ کے لئ مال مجح ہونا بھی شرط ہے ؟ ال موب بھی مال 
کو یں وکنا اور حکومت زکو کا مال حبرآخلافت شر وصو لکرل ے۔ 

ای مال زکو کے نے مفتی صاحب تے فرایات -.-- 

مرا شی رگوارہ خمی کر اکہ اس کم کا ماجائز مال انے طلباء پر 
0 )۳ ٰ ْ 

لیے مال زکوہ کے علاوہ تو صاحب ‏ حا پراہ راست بدرسہ کے 


رہ 7۴ ۸۴ہ ١:7۸۴‏ )7 


صس 


ارہ ہمہ 1ہ( ہم 1ہ 1مھ 1مم 1۶1م 1م 1۸1م 11م 1م ۱م ۱۶۱۸م ۱م ۱م ۱م 2/2۸۸۱۱ 


ٹا 


3تت ...سنہ 


رر سر 


لے پاکیزہ مال تا قبول فیا مت اور ا سکو بھی سمال موی و اعقاطا سے تر 
کمرئے جو اعتیاط زوسرے مدار١‏ مم س کی نظ ر ال ہے۔ نع کے 7م 
و اعتیاطا کان عا کہ جٹ بڑے صاحبزاوے مولانا لام محزد شمیر علیہ 


الرعۃ نے ۱۹۸۴ء میں بی ا ےکرتنے کے نت زینک میں مازعت کے لے 
ماک ورختواس تکی تو فریایا:- ۱ ْ ۱ ٰ 
ا وارالعلوم خمارا ہے اور اب تم کو دی چلانا ہے میں ”رگ 

ٹیس ا ناک یی کی سود دای رق ق مرگھری وگ 
۱ اس تحصیت کے چعد روز بعد مفتی صاحب حاوئے میں شمیر ہو گے 


اور وارالعلوم کا پا گراں ماجزارہ موانا غلام مد جان کےمندہوں بر ائمیاء 
جو جدیر ریگ میں رگے ہوئے تے؛ وہ الد کے نک میں رک گے ابیے 
: رنے کے بیھیانے .گے پضرے پر واڑھھی ٤‏ ساوہ با٠‏ تسرپ عمانر؛ عائزو_ 
ٰ مگ الزاج ایر ادا ولتوازں سان اکر ٤‏ باشاء الہ ؛ الد تقا یکو ے ارائیں 


ای بعد یس کہ ا ن کو جوائی میں شماوت کے ئ۶ مرے نے وازا م 
یں اللہ قا یحو -٭ 
مق عااب؛ صاب اسخات تے٤؛‏ ان کے پائے سال سی 


حجات مس بھی منززل ید ہوئےء اتفا ا نکی طبعت لہ ھی وہ اڈ ھا 


رر اور حی تائیر غٍ دل چان سےئپشین رت کے 
" انظام کار تور م۰۰زار برتقدیر ض 
ہے کا الک شو داد ای 
ای تقری بھی پسند کید ذریائے اور فرائے“ ”جھے فقیری پسند 
ْ ے٠‏ ۔ سے ران واز تےء شی راتا مو بھی مان آجائے میں 


پیشالی سے یزیرا ‏ یککرتے او رگگر مگ رم روٹیا ں کا واکر مما نک وکھلاتے۔ یج ْ 


2ھ 2ھ 22ھ مم مم 22٤2٤٤ 2'ع٤ 22٤2٤٥٤٤٥٤٥22222‏ 


چھومسمسمأمسحممحندہ 


اس 


کل تو شبروں میں مان با رگراں مفلوم ہوا ہےء رات کو آجائے تو کوہ 
مرا ں مر مفتی صاحب ہہمانوں کے لئ مسیشہ آععھیں بچھاتے تتھے۔ 
بی صاحب قاہر و باشن میں عالل حت تھے مادہ ماج * سارہ 
باج ساوہ مفار ‏ لین و طنمارء مز مت سرالزاجء ٠ل‏ مل و برد پاری سے 
ای نکی بھی برای فراتے تے۔ ْ 
کی از پرکس و مکس خوش آید خوش اسر 
رع اط ر سخرحطت واں٠‏ گل نے ار ہاش 
حقیقت یہ ہے کہ اگر ملس کو جا چھوڑ وی جائے اود ا کی 
تمارواری اور علاج نکیا جائے تو مر بڑصتا رہنا ہے اور ھرفی کی حالت 
وگ گول ہولی رپی ےت خرس و جلاک ہوچاتا سے اور ووضریں کو مرش 
بناجاتا سے اس لئ جو حضرات کگری اور روحانیٰ امرائضش میں ما ہیں ا نکی 
طرف شفقت و برای کے سا موجہ ہونا وہ او کل م نہیں جو حقلیت 


برسعوں کا شیدہ ہے اور جھ ہرعاات میں مزموم سے بلہ معانٹین سے من 


سلوک سے بی آتا تو حت رسول علیہ السلام ہے یم گر مرش سے 
ناراخش ہو جائے تو ھرلیئش کا الد بی مالک ے۔ مفتی صاحب کا عمل سحت 


کے مطابن تھا۔ جس زانے میں اتھوں نے 'ظام مصطفے صلی ال علیہ سم 


کے لئے جدوصم کی ا ن کو شدامر و مصائتب سے سابقہ پڑاء اپنے ہیگانے ان 

کے رشن ہو مگ گھر جب عالات نے پل اھایا اور وہ ان کے وحن زندانِ 

لا میں موس کے گے تو آپ نے ا نکی وہای کے لئے پوری پور یکوسشش 
کی اور ایک ائھی مثال ا مکی جو دوہ جدرید میں ختا ہے۔ 

مھت صاب نے عڑی کاسیاب زندگی گزاری٥‏ وین و سن ککی 

حدم ت کی تو پاوگار ےکی ان کا جنر( فورا ی مجھا اور ان کا باطن بھی 


ہے ان انآ اح ال ابس اح لماح لحم بح اح ام انم ان انم انس اس اح اس اح انح انح ا اہ ےآ اح حم اح ارح اوح ابص سی ہم | 





11003++۰۸۰۷۰۰۰ھ),۰۰۸"*۷)*/ 


' 


ورای تھاء وی ے تی ل۴ آپ تے نرمایا وہ وجرکرید 
ے۔ رمضان ایارک ۳ میں تہادہ 097 و 7م ظ۲ ارے جج ے کہ 
شوال ارم میں موی کے حور حاضر ہونے وائے جتمے سر وی میس 
آفڑری خطیہ جحعہ میں فہایا۔ 

با سی ا 
ہب ےکلہ میس آئدہ بمعہ سے ۓ آسگوں_ “٦‏ 


وصال سے ایک روز قتل خر+رت ای رین لیا کو 


بای جیں ئگ کرک فرویا۔ 


وناب وا یں 2 


کے بعد ت مکس سے کو ہکھو گے ء کون تم کو جتات ےگا۔ َ 
وسرے دن بمعہ کو ٹم رکی نماز پڑعالّء یخس 
فربائی اور ایک طااب مم سے قرایا۔ 


تکھر سے میرے لے ای فکرعد لے کو عفر میں ضرورت چٹ 


نے گی تو اعتتما لکرلوں گا >“ () 
چنانیہ جوڑے کے ببجائے صرت ای فک رع ماج لا اور ہے 
کون ریف رواعۓ ۶ گے ہے ماجزارہ مولانا غلام یر شر کار چلارے 


ٰ تھےء مطق عمد احد بی اور وریہ رلق خر محمد بلوچ* عابی ووت ممد 


مو ساد تے جب آتری اظاتب پ اعھری بر کار گی ٤‏ کار کا ا یلک دروازہ 


مھ لی کیا مفق صاحب ہچلتق 6 زی لی ھتارے بای ہونۓ کرت ہر 


تار گیا اود و هکرتا جو ساھھ لیا تھا پمتایاگیا۔ عاوٹ ےکی خبر دنیائے سنیت 
یی تی ٤‏ فی صاحب کو سیمون شریک سے حیدرآباو سندیم لالم 
سو سیت ہمت 


ھتہ رم و : 


ج سے ےی سم " ٰ ۱ 
(م1م۱م۱۳م م۱مم ےت کے 


نے 


۵۵2۵۵۵۵۵۵۵۵۵ ۵2۵۵ ةچھۂۓ مھ محمد 


ص2م ۴ 
ِ۴ 


72ر 


ےہ ڈاکٹروں نے تی زکناکہ خون بڑھایا جائے جب آپ تے سنا تو 


بر لا ٹرمایا۔ تم میرے کم یل سہ جمید خون مت بڑھاؤ“- 


یہ ے حہ 


اللہ اکبر ىہ تقوبی و احتیاط فریناگوارہ سے گر وگ گوارہ نمی ںکسی 


انان انسان کا خو نکہ شای رناہوں میں علوث وہ شاید اپنے رب کا رکشل 
وہ غایر محر مصطف صلی الہ علیہ وم کاکستاخ ہو۔ ان کے اک کم میں 


مایا جاۓے- ١١‏ تُوال انکرم ۳٣‏ جولائی 1۹۸۳ کو رات ٣‏ کر ۵ منٹ 


سر کلمہ طیب پڑھا اور آنری بھی کی۔ 


یل تھ جات ہے اس کے کپ میں 
7 سلىی جاں جا را حائظ ْ 
اں ان عزیز حجاں آفی کہ سرد وکروی- انا شر واتا ال راحولنں 
روح ہروا زکرنے کے پاجود کب کر الٰی م س سم مد ف کک مستخرق رای 


دی کر ڈاکٹر بھی حیران رہ گیئے۔ چاو جنازہ جس بکشثرت لوگ ختے حضرت ۱ 


علاامہ عرا صطغ انی لے ال7 نے غاز چنازہ پڑعالی موصوؤینك اام اجر 
رفا بریادی علیہ الرتہ کے نیدہ اور فقہ وقت علمہ ام علی انی علی 
اعم کے فزیر تے اور وارالعلوم اچرے کرای میں یع الددیث۔ مفق 1 


صاحب کے جم فودال یکو شام وارالعلوم عجدویہ تتییہ کے اعاٹے میں لحعد میں 


اارا گیا؛ ے بی زین سے ج سکی آپ لہ ہی نشادری فریا کے تے_ اوھ 
آفناب روپ بورپا تھا اور اھر ناب عم د عفان غروب ہوا ھا۔ 
ضص پہ مغ دریں بۓىں سر دِلْ 


بر ھکسایں۔ ہیں ۲٢‏ زا وہ 27 
۰۸ بر 2 مگرویدم دے چتد 
گاں ر ہے و‌ رت ارہ 27 


سر 


2033230292022223 


۶7ہ 





۰ و جت0 ۱ . : : 
س-سجسسىیفص-صح|أک×أآ×9سہ>ک إ ۹‫ جإد۔ہاب۔ل ۰ یۃہ٭۳٦إحطض٥حئبف ٠.‏ .س. ‏ مود 
پپہپیچمسمئمسپووسحجٰس-ى  _‏ مم مم سے۔.۔۔.۔س٣۔س۔س٣۔سسٹسٹتے ‏ __ ہہ .ےہ ...ہس لے رر وا عم عتعارت 


+ تہ تد 


نہ 


ددوددددددددددددددددندددددنددددحددددددہ 


معتی صاب تے میں کات ٦‏ ماجزارگانء ۵ ماب زاریال 

اور ایک >وہ سوگوار پچھوڑیں- ماجزاروں کے مام دیں۔ 
١‏ مولاناغلام عمد جان تی شید 

۲۔ مایا مر ٹاک ان 

۳۔ لاہ مفقی محمد ان شی 

ار امر جان - 

۵- بر ار جان 

٦۔-‏ خر امر جان 

اور موی اولاو سند ؛ بلوچستان ‏ ناب ابر ووصسرے علاثوں س 

کی ہو ہے۔ ان کے بعد ان کے جواں سال صاججڑادے پراورم مولانا 
وم و رکشبی علیہ الرۃ نے نہ صرف ی کہ ان مرا مک اکم رکھا بللہ اور 
فروغ دا اس سے اندازہ ہوتا ےک حضرت مفتق صاحب ے اولا دک یں 
طرح ممیت فبال تھی۔ اتھوں نے انا خلوص و لکن اولاو میس ضتخ کردا 
تھا- خر 1 خان ناضل وجوان مرانا غلام گر اض علي ا ج٠ت‏ جوا ی ہی 
می ایک عاوظ میں شید ہگ بر ان کے پچھوٹے ببھالی مولانا م نت 


مد ان نی زیر مدہ نے ویرنہ نل کو اور بڑھایاء ایر تقالی الن کو بتزاء ٰ 


یر عطا فرائے ا نکو اور ان کے عمی وو قکو دی ھکر بت ہی خوشی ہہولی 
ہے ابھی تو وہ جوان ہیں۔ امید ےکہ وہ عم وہ عقین کے میدان میں 


ٰ توب ر یکر کے وارا مو مکی گوناگگوں مصروفیات اور اہتام و الشرام 


گی زمہ وارِیں کے ادجود می زوقی کو بروان بڑھاتا امیس کی عرداد چمت کا 
کام ہے۔ مولی تعالی مزید ہمت و استقامت عطا فریائے۔ نین 


ابح راہ ما اباب الما ابا مال ا ابح اح اح اح رااح انس انا اہم اباب اہم اب ا ابس لاح ماب اباب ابح ابس ارح ارح بآ بس 6م 


نر یں 


تنتتنت 


ننریں 


0تت نت 


کت 


ت0 ای0 ںین کی ان لںاں 


سے 


ہر حظہ یا ری بت شی 

ار کرے مبطدہ شوق ےر ہو طے 
الیک مرحہ وارالعلوم میں جھا ہواء فاضل عرتب مولاما مفتی حور 
ان می زید میدہ نے اپنے وادد مابید حضرت مفحق محمد عبدائلہ جان شی 


علیہ ارح کے فیاوی کا مموعہ دوکھاا جس کو مفتی مر جان ماب وو 


مرج بکررہے تھے ویک ھکر بت دی جو شی لاو رکال سے دٹائیں یں 
کرچللہ ہمارے از وش شی رو1 حقن سک زرل بت ہم ہے۔ ساری 
رابایاں .3 رر ضرتف 0 یں > بک حرر 2- د یں اجدو تصرٍیه و 
تایف میں گوئے سیقت لے چلا باہمت عداء کا کام ہےہ ای حضرات 
کے دم سے زیائے مم و وافشل میں روف ہے۔ موٹی تقالٰی مولانا مفتی حمد 


ان ضشی یکی اس عی کاو کو قبول فراکر اس پر ار عنم عطا فرائے. آ ات 


مولانا مفتی مد ان فی زیر رہ سے م لکر بمیشہ خوشی ہو 
ہے۔ ا نکی تحبت و اتعلائش نے ول می ںگھ رکرلیا ہے۔ جب ہی تحریر 
کی فرائ کرت ہیں تو عم رواں ہو جاتا ہے عللنمہ الصی فرائکتو ںکی سیل 


میس میوں تک جاتے ہیں۔ موصوت نے کراپی سرت پہ فیا کا 


7 کے ار کے ملاع کچھ از جا کے ا عو قالٰ ول ْ 


فرائے۔ نین 

می صاحب کا ہار وقت عم و ررش عحباوت و ریاتعت اور 
عرمت علق می ںگزرما اس لئ ا ن کو تصپیف وت لیف کے لح وقت ےہ 
ل کا۔ چند رسائل ا نک یادگار ب* کن عمرہیں البیاضس انی سے 
حنوان سے ا نے شزوں ٤و‏ کرات شر عکیا تھا۔ مفتی صاحب تو خو دنین 


خھججھجی :)٥م‏ وی 7 می لم یک سے7 


سس 


02 ٰ 





0 


ای ای ای اع ا ا ا ا یں ای اع ای یں اک ای اک ای ای ایی ایی ای ای ایی ایی ای ای ای ای ای ات اک اک ات ای ات کی 


"ود 


سم 


لکیہ کے گر وہ ابھی ناورونایاب کتاہیں تع کر گے ہی ںکہ آنے والے 
ححقبن ان سے اسفاددکرتے رہیں گے۔ مفتی صاحب کو کتایوں سے بڑا 
شف تھا۔ وہ اس کے لے وور ورا: سعیہ تد 
ایک سفر میں وہ شمید ہوئے۔ 


مق محمد بدا نی 0700 ٰ 


ہو دوبارہ زیار تکی حسرت ہی ول میس ددگئی۔ 
الک یىی ار ہیوئیں وج مگ رفتاری ول 
التتات ان 1 ٹاہوں نے روارہ ے گیا 
یں بار فقیجامع مسیرہ می (ئطھط) میں خماز مغرب سے فارغ ہوا 
تو چند عقیرت مندو ںکی بھرمٹ مس ایک ورای یکر دیکھا جس کے بجرے 
سےووعامان وقار مرن جو فقیرنے اپے ود ا مق اعم او رظ اذہ 
قرس اللہ نقالی سرہ العز: | اور صدرالافاضل حضرت مولانا ید مم الدین مراد 


آبادیی حقدس سرہ العزیز کے مبارک بتروں پر دیکھا تھا۔ حیضد وہ جنرے 


ممھاں کے! ْ 

سب کیاں“ کچھ لالہ و گل میں خمایاں ہو گی 

اک می ںکیا صورتیں ہو ںگ یکہ پنہاں ہودگسیں 

ضرت علامہ ملق حید بد اط علیہ الرحم شر عالٹم اور سلف صاشین 

کی پاوگار تے۔ وہ حضرت ماج العاء مفتق مد عم رنٹسی علیہ الرحہ کے عمیز 
رشیر جتے جو حضرت صدرالافاضل مولانا محمد عھم ادرین مرا وہای علیہ ال رم 
کے شاکرد رشیید تے ان کے ول میں ع مکی الم یلکن شی جھ اس زمانے میں 
ایاب خی ت کاب ضرور ہے۔ جب جاع سید مگی (ضسط) می حضرت 
فی صاحب علیہ ال رح سے _قی کی پلی او رکخری ملاقات ہو تو عر گکیاکہ 


)٠۶(‏ ری ص17 


لءلاا علاا ولا ول 


اہ اج اہ اج اج اہ اج اچ اہ اج امم امم اچ ا امام ام جا مم امام 1۵1ھ 7لم رس ۵۱/٥۱‏ ۱۱۵۱ھ( ۱م/ 


اڑے۔ 


تنا 


۵۵۵0۵00030000103 2 


ر07 تصویذ کا شسرعی ۱ دنگ 
عقوڑی ویر کے لے غریب فاتے پر تشریف لے میں *“۔ حضرت نے 
ٹرمایا ْ 

یک شادی شی چاول چارہا ہوں ان ثاء ار ,گە مآو ںگا_ “ 


اتقاق سے اىسی زانے میں فیاوی رضو کی ایک یر مطبوعہ جلر 


پکر ہندوستان سے ال خی مقیرنے لت تہ یاتیں باتوں میس اس کا 


وک رکیا قو سے بی غریب خانے پر لے کے سلۓ جیا ر ہو گئے۔ نشیف لاتئے 


اور بڑے ذوقی و شوقی سے اس جلد کا مطالعہ فربایا۔ پکھر ارشاو فزایا مج 
عنایت فرباریں مطالعہ کے بعد وائیں می می جا گی “۔ ہوگہ مقی ر نے 
مطالعہ خی ںکیا تھا اس لئ عم کیاکہ ” مطالعہ کے بعد بن شکردی جاتے 
گی ۔ الیسا وس ہواکہ حضرت مفتی صاح بکو اس جواب میس جاسا لگا۔ 
ور فنہایا جب مس مرجاؤں گا“ (لتی میرے مر نے کے بعد ریں ۓے)۔- 
تقر نے یہ مات سے بی فناوی رضوے کی وہ جلر ھی کردی۔ بہت خوش 
ہوئے اور دعائیں ریں۔- بکھ رایک دو ناہ بعد ا یکی جلد جو اکر والہ ںکردی۔ 
الد اکبر! ہہ تھا ان حضرات کا ذوقی و شوق اور امانت داری یکلہ خیر مجل دکتاب 
نے گے اور چذر بواکر والپیں۔ فرج کل ىہ امات داری گہاں ب کہ عرصہ 

گرزرا ھاکہ اخعبار می خب ری حضرت مفتق صاحب اپتی کار میں حطاش مم 


میس جارہے تھے ایک حاون میں شمیر ہو گۓے۔ خبر بات بی حضرت مفق| 


صماحب کے وہ الفاظ یا آ گے جب مس مرجاوں گا“ اتی اکر پلی 
طاوات می فقیر فیابی رضوب نہ دیتا تو بک ردبھی نہ وے اا۔ حیفئ۔ 
آئے بھی اور جے ول بھی وہ نےکر جھگیں 
ہائے کیا کیا ۓ ہوا عم کو نخبر ہونے کک 
حضرت مفحق صاحب کے زوق عم کے بارے میں اوارہ تحیقات انام 


1-5-5 )٠۹( 


سم 


06 


32ووددددددجددندددددددحقذد ذذ د۵نددددہ 





کی 


تعویذ کا شرعی حکم ناکان 
احر رفا کرائی سے مدد حترم جتاب سید ریاست می خادریی فریاتے ت ےکک 
بی شریف سے ان کے یا ام اد رضا 7ئ 


رر 


واورات آئے تتے جن میں تصاتیف٥٠‏ شروں اور حواشی سب ہی تے۔ 


حضرت مفتی صاح بکو جب اس سعلھی زحیرہ کیہ عم ہوا ق یر سے مار ھکراتی 
زارت کے ثلۓ تود تشریف لائے حالاکہ فاصلہ یس بارہ سیل ےکم نے ہوگا۔ 
بحھر برابر آتے رسےہ مخطوطات نے جاتے ان کے کس می رکراتے یماں 
کک مارے خوطا کی عکسی کابیاں بنوالکر اس ےنب خیانے می محفونا 
کرلیں۔ ان سے مب جانے کے متعلق ٹس مفتق سید شیاعت یی نمادری 
ےر ۱ 


”ابررولی ہتردھ سے انثٹر خقوطات کی نول مق ماب چ2 


کب خانے میں موجود ہیں اور میری خوش تی ہ ےککہ اع سے بے استفادہ 
کا اتا موںع عم لگیا۔ “ ۵) 
اس مس کیک خی مفتی صاحب ان عمد کے جکیل اتقدر عا م اور 
مفحق تھے ان کے بارے میں عماء و مشاخ نے امار خیال فربایا ہے حرف 
بھرتف تح ہے۔ سمل تاور کے بُخ طریقت حضرت ا اب ب ان 
فادری برظل ااعالی ٹرراتے ٦ے‏ 27 وو سرت ار کے غازی اور 
شریعیت و طریقت کے جامع اور علوم ظاہری و بای کے حال تے- اللہ 
قالی نے ا نکو عم رد کی ووات سے سرفرا زکیا جھا- “ (۸) 
اس مس تک میں ووز عاشز مس مفی صاحب سلف صائی نکی 
ار تے مولنا یل اع دشیی زیر عنا بن نام تقلیات دارالعلوم نیم کراتی) 
رات میں : توف مر عراڈہ لی نقبنری علیہ الرہ کو ویک کر 


.بلاالقہ رون اولی کے پاکیزہ سرت حفرا تکی یاد جازہ ہوجایاکری شی۔ “  )۹(‏ 


۱ 


سس اس سس اس سس رس اس سح اس اس نس اس اس رس سس اس رس اس اس ا اس رس انس ا اس اس و سم 


7ِ, 


3 2 


ےک 


000700000100000 نہ ہہ من ننند 


سندجھ کے مشمور عم و عارف حضرت مخدروی پیر محمد ابراگم جان 
ری مہتدی برطلِ العالیٰ جن کے پالیہ کا :2 اور ول ال ولت سندم ہل 
نر یں آاء حضرت مفیق صاحب کے مععلق ایک سندی قلعہ تار 
وت میس راک یں۔ 

۱ ا وہ اں وور گج شاہ وی اثر کے 

٣‏ ےہ ملک لیت سے پٹاہ کے 

اور امیر وری اللالک مش کرائی مولاما سید محمد تن خادریی تر 

زیتیں۔ . ۱ ۱ 


توق انم مور حفرت مفقی عمر عیراشہ عاب بی آوراشد ٰ 


مرقدہ احلا تکی زندہ نشالیٰ تے ا ن کو ویج ےکر ا اسلات کی یاد تازہ ہو 
لی ی۔۔ “ )١١(‏ 


اس میں یک میں کہ حضرت علوہ مق عحمد عبدالظد تی 


تخبدری مجددی تقاوری مقدس اللہ تعالی سرد العزیز عام اسلام کے ماہ ناز عام 
اود وی کال تھے ا نکی سارک زندگی اس شع رکی یہ دار ی۔ 

ار خیل خویش کول شوہ بیاہ بائی 

از خیال رت چالد ہو“ جانلہ بائل 


رر سورامر 

پل مگورنمنٹ پکر یکارنغ ایر وٹ 
مر یویٹ اسٹرں: سظر 

حر (ستدیر) 


(الا ۳ ورپ اکستان) 


۶ 


رلک۳ 


ام 11م م۱مم م۱مم ۱۱م مم ام (م ۱مم ۵۱ ۱مم ۱م ۱۵۱م ۱م ۱م م۱مم (م۱۸۱م۱۶۸۱م۱م۱مامام] 


ب0 ب0000 00000 با۸ ںب 0ں اف 


حیات كعسی کے حا ْ 


زم موات مر اس تی سواخح حیات مفتق اعشم تدج س مطبوع ہک رای 
سض سل نی سوا حیات مفتی اعم سندبدس ہے ا مطبوع کراب 
(مك موا حر اس نی سواخح حیات مفق اعظلم سندحص ۲٢‏ مطبوم کرای 
() مولاا محمد الم تی سوا حیات مفتق ا تفم ند ص ۰۴-۱۹ مطبوع کرابی 
رك مود حر اسلم نشی سواحع ات مفتق عبداڈ صس ۴ مطبوع کرات 
09 مود حر اسلم نی سواخح حیت مفتی عبداوڈ ص ٠۴‏ مطبوع کرای 


) موانا حر الم نی سوا حیات تق عراش مس ۵ن مطبوعہ کرات ٰ 
ہك موداا یز اس مملتسی سواغع عبات مفتی احٹھم سندبحہ ص سے مطبوط کرای 


رك موا یر اسلم اتی واج حرات مفتق اعم سد موہ مطبوع کرای 
)۱٠(‏ موزانا عحرر ! مم بی سواخ حیات مق | عم سر مس ۸۹ مطبوعہ رک رای 
)١١(‏ مولانا مر | 7 می سواع بات مفق اعم سن ری ص سم مطبوعہ کراٹی 
وك موا حر الم نشی سواخح حیات عفق اشنم سندجھ مس ا مطبو کرائی 


ُ (و) موا مد اسل تی سواغع حیات مفق اٹم سند مس ا مطبوع کرات 


/) ۷)۰) 


ہک کا کر کر اہ کہ کہ کیہ کر کہ اہ کا کر کر کرہ نہ ا اہ اہ کر کر کہ نہ کا کیہ کہ کہ ہہ کہ کہ کہ نہر 


ہے 
ند 
کے 


سم اللہ الرن ال رم 


شرف اتقساب 
مولانا پر طریقت شس شریعت زبدۃ التارشن واعظ اسلام ا اج 
مد عبد الہ سولنگی رحمت ایل علی (مرش رکال سلسل لقشنےء حضرت مفتی 
اعٹلم سندھ قمرس مسر۵) کے نام جن کے فیض وبرککت سے وارالعلوم مرو ۱ 
تیب مرکرز عم و عکمت با۔ جہاں تشگان علوم رین اپتی پیا کجھاتے ہیں۔ 
ٴ خاپاں را ج بب گر آوازی دگرارا 
ار 
محمد جان یی 


جاجح 3/7/1410 الواٹن 31/1/90 


ا ت000 00ن 


ام رم ام ام جم ام اہم ا ام اہم مم ام 1مھ 1ھ /ھ۵۱ ۱۸۱م م۱مم 1۱م ام ۱۸۱م ۱م ۱۵۱م ۱م۱مر ۶مہ 





00000000000000000 ند 


سم اللہ الرمن ارجم 
و ننزل من القرآن ما هو شفاء و رحمة للمومنین 
ولا ید الظالیۓ الا کسازاً . 


>ہ ہد 
تید شری جم 
ید میں بے 
عیب دنق 


صاحبزادہ محمد جان نعیمی 


زم / مر ہم ہمہ( مم( 1م 1م( مم 1۶1م 1مم 1۵۱م ۱مم ۱مم م1مم ۱م۱م۱م۱م۶1۶۸۱ ۱۶۶۸م 


۵۵نددددددددددددددددنددددنددددددحددحدددہ 


اترانے 


حضرت قبلہ وکح استاد حترم رعمت اد علیہ ایک ہہ گر حصیت 
کے عابل تتھے۔ آپ کے عم می تا ہی شدت تھی اور محقی نکی طرح 
جج تھی۔ زان راہ تھا موچ عگران تھی۔ آپ کے می توق اور 
الہ ماعرہ کے شہ پارے آ پ کو آ پکی تصتیف میں جا با نظ رآتے ہیں- 
جب ایک رسالہ تام نخوی زگنڑا شرک ہے نظروں ےم زرا تو میں حضر تکی 
ندمت ئیں عاضر ہوا اور وہ رسالہ جن لکیا۔ حضرت نے فرمایا کہ اس 


آوعیت کا ایک سوال بھی بصورت استختاء آیا ہے۔ لزا حقرت نے ای 


وت عم اتھایا۔ اور اس ملہ (نتوی زگنڑا جائز ہے) کو قرآن و عدی کی 
روشی میں تحریر فرایا۔ وہ شی مودہ موجود تما۔ حضر تکی سیات مس مظر 
عام پر مہ کا _۔ گر میرے استاو رجمت ار ع بر کے صاحصزارہ مض مر جان 
سی کے شب و روزکاوشوں کے نہ میں ب کاب منظمرعام پر آردی ہے۔ 
مضتی محمد جان تی نے مسلانوں پر ڑا اصان مایا ۔ کیو یکلہ ا ںکتا ب کی 
بی غرورت تھی۔ اس سے کہ بی کتاب ابتی نوعحیت کے انا سے پالئنل 
طرے۔ 

مد عبدائتلیم انقاوری عٹی عز 


سس سس سر سس سس سس سس ار کس اس اس اح سس ا سس اوس اس اس اص اس راس اس راس اس اص کس کس ما 


ء٠‎ ٠٠٣٣٣٣ ۱ 


کیا فریاتے ہیں عاءکرام جایت اس منخلہ می ںکہ تج کی بجض 
احتارات اور رسال و اخبار وعسرہ وو ےکک لی زگیڑا پابرعنا اور وم 
ویر کرنا رام اور شرک ‏ ےکیو لک ىہ کام پیٹ برست پییروں کا ایا کیا 
ہوا سے اور ویزات ارت لبتا تام ے۔۔-- لزا برا ےکرم قرآنو 
سن تکی روشنی میں جواب عتایت فریاکر نون فربائئیں۔-۔ کہ شریعت 


مطبرہ میں تحویز وقیرہ پلیزھنا اور کچھ با ھکر و مکرنا اور نوز پر ابقرت لا ۱ 


رما جات ے امن 6 ےت 
بینوا و توجروا عند الله تعالی 
سائل ۔۔۔۔ محمد جیب صاحب از می رکالوئ یلک راتی۔ 


اواب 


اللہ خوالمرنن لاصراب 
تحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم صلی الله علیہ وسلم 
تر از لہ سام ہد ں- صورت مسستول, گے چواب سے ک اتۓے 


لان بھاتوں کی ہدایت کے سے چند مات ت 'ظور جد و صاع وک کر 
ہے۔ رب قالی جمیں صرالط تم پہ فاتم فرائے۔۔۔ کمین تم آمین۔ 
میرے مسلمان بھاتو! رب تال ران مجر میں ارشاد فراتا ہے: 

اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم (الایة) )١(‏ _ 
تریمہ : اے میرے بندو اللہ فا ی کی اغاعت کرو اور اس کے رسول کی 


زمر رھ 1ج( ہک 1مم( ( م1مم 1م ۱م ۱م ۱۶۱۱م ۱م ۱م۱م۶۱م۱م۱م۱۶م ۱۶۱م ۱۶۱م م۱مم 


نے 


33000000-2 2 


8 
اطاعح تکرو .۔۔ اور ا ق کی جو عم میں صاحب امرہیں۔ اوٹیٰ الام سے مراد 
علرا ہکرام ہیں جی اکہ سیدنا عبدانقد ین عباس اور سیدنا جار ری اللہ تال 
تفم فاتے ہیں : 

ھم الفقھاء و العلماء الذین یعلمون الناس معالم دینھم و هو قو 
الحسن و الضحاک و مجاھد انتھی <٠ )٢(‏ 

تریمہ :تی وہ اہ تہ جو تنم یت یں لو کین کے اکا مکی 


را7 


ٰ بھی جانتا اہ کہ عراء و نتماء سے راد وہ علرا و نقماء با جو قرآنو 


مت کے علوم میں ماہرہوں اور ان علوم پر بورا عبور رکتت نہوں جن پر قرآن 
وت جانا موضوف ہے۔ ہی اتحمہ بجمدین ہیں۔ ا اور وہ عا کرام جو عم 
و گل *عرفان الی اور جب رسول صلی اللر تال علے وم کے پیر ہوں 
ج نکی تصاتیف پر عرب و ظم و مشرق و مخرب کے عدا ‏ کرام کا اتاد ہو۔ ۔ 


اگر چ رایک لکھا ڑھا عراد ہوا تو حضور اکرم صلی اذقد نال ی علیہ وحم عراء 


سو کی احباع سے یگ ےک یکیوں مکید فراتے۔۔۔ جعیساکہ حضرت الد ہریرہ 
ری ال تال مہ سے روایت ہے۔۔۔ کہ فور اکرم صلی اللہ تقایل 
وم تے ارشاد فرایا۔۔۔ ۱ 

یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث ہما 
لم تسمعوا انتم ولا آباٹکم فایاکم لایضلونکم ولا یفتٹونکم (رواہ مسلم) 
-۔ (۳) 
رم کہ آخر زماتے میس جھوئے اور مکار خمارے ہال لی حدیں لائیں 
ے جو يہ تم نے سی میں اورن تمارے آبام و اجداد نے ۔ یں اپنے 
آ پکو ا نک یمگراہی سے بیو مباداکہ میں کمراعی اور فقتوں میں نے ڈال 


ےم 
رک تععو رک یتر۷ ورپ6 ۴ر7 


۱ 


ص2272 


۰ ۰ 
ہے : ے٭ 


ار 0070000 0 ں7 ۱0000 فا 


اگ 


اس 


را7 


اور اسی طرح ہہ ازشاد فربایاکہ می امت میں تر فرتے ہوں گے۔ اور ان 
مس سے بہت فرتے می ہوں مے اور ای کفگروہ جلتق ہے لیں تحاب ہکرام 
نے وریافت فربایاکہ یا رسول شر صلی اور علیہ وعلم وہ جختی گروہ کون سا 
سے تو آپ تے ارشار نرایا!۔۔-۔ 
ما انا علیہ و اصحابی (الحدیث)۔-۔ )٢(‏ 

زی جس حقیدے پر میں اود میرے سح ہکرام ہیں اس عقیدرے 
ہر جھ ہوگا وہ جفتیگروہ ہے۔ 

فضلہ تعالی وەگروہ جنتی اہل سحت و جماعت کا سے جس کے جنقی 
ہوت ےکی بھی ولیلی ہےبکہ امت رسول صلی الد علیہ وم میں بین بھی اللہ 
قا لکی ارگە جس مخبول بد ےگزرے ‏ ہیں اور اس وقت جو ہیں وہ سب 


کے سب ایل سفت و ججاعت کے ععقیرے پر جھے اور با ہے اور ۳۲ 
طرح امت جب اخلاف پیدا ہو قوگروہ لی مکی احباغ کا سرود عالم صلی ٰ 
انث علیہ رم نے امرفرایا۔-- 


8 اتعوا السوادالاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔۔۔(الحدیث) (۵) 
یس لہ توالی امت رسول صلی اہ ت‌الی علی. وم می جن بھی 
ٹر پیدرا ہوئے ہیں ان سب یں ہوا د اعم بجاعت اہل خت ہے۔ اور 
اس اہی حت کا عنم مگروہ جونا ا یمگروہ کے جنتی ہون ےکی ولیل ہے۔۔۔ 
زا ملانوں پر فرش سے کہ قرآن وت کا جو م وم سلف 
مائین و ا٠ہ‏ مرن اور عاءَ معن نے بیان فرایا ہے۔ اس کو ج 
جائیں اور اس بر عم لکری اور چ رای ککمہ کا یا نکردہ مفموم جت نہیں۔ 
اور قررآن و سخت کا عم دین ہے اود وی نکس سے ینا چا نے این بارے میں 


لال اک ا ول ؤال 


تعصویذ کا شضسرعی دلکجیکلکیٹژت: 


یا ای سی کی کے کے کا 


00027 


ق000010010001000000010000000-0000000000 0ل 


ر٣‎ 


راہ سور یش کا نات 

' ان ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم(الحدیث) )٦(‏ 

تم :کہ یك عم لتق قرآن ر حت) رین ہے۔ جس سے ایا 
دین ینا چاہو اس کے عقیرے اور اعمال و تقڑی وخیرہ میں خوروگر کے بعد 
ابنا وین حاصل کرو۔ نک ہ رای کفکمہ مدکی بات بر چلاکرو۔-۔۔ 

لزا اعاویث مہ اور الا گرام کے اوال ے ثابت ہوا کہ ہر 

ایک بڑھ یھ کے قل بر اعتاو نمی ںکرتا جا یف اف کا8 س۷ 
عفر تی اور حلمیت معلوم سح ہو۔ 
.ت۴ سم" مرے مان بھاتو! ارشار تبوی علی الصلوۃ والسلام کے 
مطاق امت رسول صلی اللہ تعاٰٰ علیے وم سے فرفویں میں مفرق ہیی ہے۔ 
گر اش قال ان ٣‏ گگردیوں میس مایتین کے وور سے نےکر رح جن 
سواواصشم ال سفت و جماعت کامگروہ ے۔ سے اس وقت ہمارے کک 
می بریٹوی اع تکما جانا ہے۔ اس سوادا شش مکی احیاع کا سرود عالم صلی ال 
تقالی علے وم کا اھر فیا ا لی گرو وی حعانیت ١‏ اور نائی ہون ےکی ولیل کال 
ہے۔ لبیزا قرآن و حت کے موم کو ابل سحت و اعت کے علاء حقن 
نے جو بیان فرمایا سے اس پر بہیں عم لکنا جایئے اور ہمارے لئ ان ہی 
حضرات کا خول و ثعل و عحل مت ے۔ ایر ال پرشنن دور میں پر ایک 
بڑھ لیے سے رھ مایا نمایت مارالی ہے۔ رب تفالی بھی مسلک اہل 

مخت وجاعت پر تائم ف ‏ ا کے شر سے مفوظ فرائے۔ آ ان 
وی 


7ا اطم 
صورۃ مستولہ مس شری معکم 00 ور 


یا کی کی سی سی سا 


پ وت تاؤ ول 


۸ 3333333333330320] 0000000002 


+7 0 ۵0۵3۵۵000ن۵ند۵ددندددددنحدندددددددددددحددہ 


7 


ص7 تعویذ کا شسرعی حکك٘م | کان 


او ااورہ اور وہ دمائیں اور ؤائف جو ہمارے بزرگان دن سے مقول ہیں۔ 


لع ھکر مرینش پر و مکرنا اور تتویز ہن اکر پاندھنا خجائز سے بللہ مت و ٢‏ تب 


نک وی وو اکار کل نی 2 میں کک رسلکتا اور ججلاء اور گھراہ ڈرتوں کے 


افال ب ےکوی اعتبار نہیں- 


براوران اسلام : 

قرآی آیات اور ککام رسول ایند می اللہ نقالی علیہ وعلم میں جس 
رح روعالی امرائش کے لے شا ہے اسی طرخح عمالی امرائش کے لے 
بھی شا ہے۔ 

یس الہ ارشاو غراوندی رب 

وننزل من القران ماھو شفاء ورحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا 
خسارا (الایة) (غ) 

تر ھہ:۔ اور پُم قرآن ا رت یں وہ یز جو اعان والواں کے ےج شفاء 
اور رمعت ہے اور اس سے ظا مو ں کو نمتصان بی بٹھتا ے_ 

ال ایت مارکہ سے مات ہوا کہ قرآن مجر میں مومنوں کے 
لئ روحا لی اور جسما می امرائسش کے لئ شقاء ہے۔ 


اقوال مین ام 
جیا کہ مفسر قرآن محمد اساعیلی خی دس سرہ تس روخ البیان میں 
رائے ہیں۔ 

واعلم ان القران شفاء للمرض الجسمانی الخ (۸) 


تمہ :. جان کہ منیق قرآن ید ماق مرتس کے لے بھی شناء سے 


سس 


کہم ۵220660002609606 


جگ 


ددددحددددددنددنددددنددنددندحدت2۵33330ہ 


اور عفرت علدہ شا بل انی تقسی می فیات ہیں۔ 

و فی الخازن و هو شفاء من الامراض الظابرة والباطنة واما کونہ شفاء 
من الامراض۔ الجسمانیة فان التبرل بقراء تہ یدفع کثیرا من الامراض 
یدل علیہ ماروی عن اللبی صلی الله علیہ وسلم فی فاتحة الکتاب وما 

یدریل انھا رقیة الخ (۹) 
تر . تقسیرنمازن میں ہ ےکہ قرآن عجید اما تظاہر اور باطنہ کے لے 
شنا ہے۔ اور اس کا اعراضش جسرایہ کے لے شفاء ہونا وہ اس سل کہ قرآن 
مجید کے ططاو تکی بت بت سے امرا کو وث حکرپی ہے۔ اں > ول 
وہ حدیث سے جو حضور اکرم صلی اور علي لم سے ردای تک یی ہے کہ 
سورت فاتمہ رقیہ ہے۔ لیٹنی ومم سے اتھی۔ 

اور اسی طرح حضرت علامہ سید مود الف دای مقرس مہ ابی تقر 
روح العائی مس خفرآن مجر کے امراض حمانے اور روعانیہ کے گے شفاء 
پونے کے حث میں آیات شفاہ کے بارے میں ام کی علیہ لرح کا قول 
فل ذراتے ہیں : 
وقال السبکی وقد جربت کثیرا ومن القشیری انہ مرض لہ ولد لیس من 
حیاتہ فرای الله تعالی فی منامہ فشکی لہ سبحانہ ذالل فقال اجمع 
آیات الشفا واقراھا علیہ اوکتبھا فی اناء واسقہ فیہ مامحییت بہ فقفعل 
فشفاہ الله تعالٰی۔ والاطباء معترفون بان من الامور والرفی مایشغی 
بخاصیة روحانیة کما فصلہ الاندلسی فی مفرداتہ و کذا داود فی الجلد 
الثانی من تذکرتہ ومن ینکر لایعبابہ وقال مالل لاباس بتعلیق الکتب 
التی فیھا اسماء الله تعالٰی علی اعناق المرضی علی وجہ التبرک بہا 
الخ ورخص الباقر فی العوذة تعلفا علی الصبیان مطلفًا وکان ابن 


یا ری کی یی کی 


7ر 


اس راب ح بح بح انح اح بح قح ابس قاح اح ارح وس مم بح لاح اس اح اب ح حر ارح اح بح ارس ارس ارح ا اس ا ا ا ا و مم وی ہس( 


سن 


زار7 


تعرویذ کا شسرعی حکسم ۱ اٹ کن 
سی ماخ ہن انار دفلات 7 متا 


ٰ مطلقا وھوالذی علیہ الناس قدیما وحدیثا فی سائرالامصار الخ (. (٠‏ 


ماحب روج المعالیٰ فرباتے ہی ںکہ جو جن قرآن یر سے وم اور 
نیز کا مککر سے اس کے قول کاکوٹی اعتبار یں اور سیدنا امام اتک رشی 
الث فقالی عنہ فریاتے ہیں کہ جس تقویز میں اساء ای یھ نہوں اس کو 
رکت کے لے مرپی يک یگردن میں فلھانے می ںکوئی مرج نہیں۔ اور سیدنا 
امام باقررضی اللہ تقالی عنہ اور حضرت ام این سبرین رضی اہ ای عحنہ نے 
معوزات اور قرآن مجی رکی آیات کو لک ہک سگرون میں فلکان ےکی رخصت 


فمانی ہے۔ اور بکھر ھی صاحب روح الال ی قریائے ہی ں کہ صحوذات او 


قرآنی آیات اور اساء ال یکو لم مک رگرون میں فڑچانے بر تقدیما ابل اسلام کا 
مام بلاوٹیں حول ہا سے۔ 

ابر اسی طرح حضرت عامہ قرطی تقسیر ایام انرآن میں ای 
یی تکی تقسیر میں فراتے ہیں۔ 
الدات العلماء فی کونہ شفاء علی قولین احدھما آنہ شفاء للقلوب 
ہزوال الجھل عنہا وازالة الریب والکشت غطاء القلب من مرض 


الجھل والامور الدالة علی الله تعالی والثانی شفاء من الامراض الظاھرۃ 


بالرقی والتعوذ ونحوہ الخ (۱۱) 

پبکھر فرماتے ہیں۔ 

وسٹل ابن المسیب عن التعویذا یعلق قال اذا کان .فی قصبة او رقعة 
یحزر فلا باس بہ وھذا علی ان المکتوب قران و عن الضحاک انہ لم 
یکن یری باسا ان یعلق الرجل الشئی من کتاب الله اذا وضعہ عندا 
الجماع وعند الغائط ورخص ابوجعفر محمد بن علی فی التعویذ 


۷ ۴گ )۸ )/ 


12/2/2222 2/2 2/2/2 /2/2 2/2/2121 /22/2۵2/2/2/2/2/2/2۵/۵/2/2/۵/۵م 


20300230209 0 ۵۵۵۵۵۵۵0۵۵۵02۵02 ۵۵۵۵ ۵۵۵۵۵۵۵ن0/ 


نے 


اگ 


یعلؾ علی الصبیان وکان ابن سیرین لایری ہاسا بالشی من القران یعلقہ 
الانسان انتہی )۱۲١(‏ 
اور ھی علامہ قرلی علیہ الرعمتۃ فرماتے ہیں کہ سینا عحبدائد جن 
عمررضی اود تی عنما اپنے بالغ یو کو محوزات یا دکراتے تھے اور با 
یں کو محوذات لگ یک رگرون میں فلکاتے تھے اور فرراتے تھے 
وکان عبدالله یعلمھا ولدہ من ادرگ منھم ومن لم یدرک کتبھا وعلقھا 
علیہ انتہی' (۱۳) 
اور علامہ ‏ محمد ناضل بین یامین مقدس سرہ فریاتے ہیں۔ 
ان هذہ السورۃ المبارکة اعنی الفاتحة تبری الاسقام والالام وتعجل بھا 
العافیة اذا قراھا المریض فی حینہ اوتلیت علیہ ومسح علی جمیع بدنہ 
مرۃ واحدة او علی الموضع الموجع ثلاث مراۃ واذا کتبت فی اناء طاہر 
ومحیت بماء طاہر وغسل المریض بھا وجھہ عوفی باذن الله الخ )۱١(‏ 
لزا ری نکرا مکی عبارات سے ہہ امر وا ہوا کہ قرآن مجید 
روعالی اور جحمالی امراشش کے گے شماء ہے۔ اور ثرآن ی رگی آیات اور 
اساء لی اور اوعیہ ماثورہ لگ ےکر عرلی ضک کی گرون میں انا ضعاہ ہکرام اور 
این عظام اور سلغا و محلغا خام بلاو اسلام میں مسلانوں کا مول ہا ہے۔ 
اسی رح احایث نبدی ی صاصا الف صوۃر سلام سے بھی قرآن مر 
1 اات ! ور اوکیے باورہ کر وم کرنا او تتویز اک گردن میں لان شبت 


سام 


را !7و 


دہ مم رک مم .تم 1 مک 7ک ہم کک 


۲ 


سح اح سر سس اس ارس نس سح لس ارح اح اس سح اس اس سس اح سس اس ابس اس اس ابس ا اس اس اس سس رر 


: ۵۵۵۵۵۵۵1003ددددددددندددددددددحدددہ 


کن 


وت از احاوہث مہا رہ 
عدریث اول: 
عن انس رضی الله تعالٰی عنہ قال رخص رسول الله صلی الله علیہ 
وسلم فے الرقیة من العین و الحمة والنملة (رواہ المسلم) (۱۵) 
تم : حفرت اس رشی افشد تقالی عنہ فریاتے ہی ںکہ رخصت مرمت ذرال 


سو کیم می لہ قالی علیہ رم نے فلرد ور نبرا جوا کن اور نم 


پھلو سے د مکرن ےکی ای۔ 


٣حۃبب‎ 


حدیٹ دو۳: 
عن عائشہ رضی الله عنہا قالت امرنی النبی صلی الله علیہ وسلم ان 


نسترقی من العین (رواہ البخاری والمسلم) )٦١(‏ 


رم : امم ال وننین سیدہ عائشہ صدیقہ رشضی اللہ توالی نما سے مردی ےک 
ےکی مال تال لے نس سی 


عیٹ سے 


عن ام سلمة ان النبی صلی الله علیہ وسلم رای فی بیتھا جاریة فی 
وجھھا سمعة تعنی صفرة فقال استرقوا بھا فان بھا النظرة (متفؾ علیہ) (۱۶) 


مجر :۔ ام ال ومنی نل للاری شک می ار تی عنا سے ع بی ےکک 
حور انور صلی الشر فقالی علیہ ومحم تے آب کے گھر می ا فکفہزہ کے پخرہ 
یس زددی ھی تو ایا ا کونظ ریت ہا کو د مکرو۔ 


حیٹ تما رم: 
عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ قال نہی رسول الله صلی الله علیہ وسلم 


لا ولا لال ۱ (31) ۸۴ ۴)): 7۸۳)؛٠‏ ۴ 


٢‏ _ح. سم 


٣۱۵۱م‏ ۱م ۱م ۱م ۱م ۱م ۱م ۱م۱م۱م۱م۱م1م 1م ۱م ۱م ۱م امام امام مم امام ام امام ام ام زم ام اہ لہ 


کہ 


۵۵۵۵0۵332 ۵۵۵۵۵۵3۵۵ ۵2۵۵۵۵۵۵۵۵ ۵۸۵۸۵2َ۸َ(ه د۱مہ 


ری لاگ 
عن الرقی فجاء ال عمرو بن حزم فقالو یارسول الله صلی الله علیہ 
وسلم انہ کانت عندنا رقیة نرقی بھا من العقرب وانت ٹھیت عن الرثی 
فعرضوھ' علبہ فقال ما اری بھا ہاسا من استطاع منکم ان ینقع أخاہ 
فاینفعہ (رواہ المسلم) (۱۸) 

ترجہ :۔ حضرت جار رضی اللہ قزائی عنہ فرماتے ہی ںکہ حضور اکرم صلی اور 
قالی علیہ وعلم نے د مکرنے سے مع فرایا۔ بکھ رعرد ین زم کے کھر 
لقریف لاۓے- تو انوں نے گا کہ یارحول ار ی ار نمی علے 7 
ہمارے نماں اک وم سے جو جم چو کے کا سے دم کرت تاور سرکار 
نے و مکرتے سے مبح فریایا ہے تو انموں نے انا وہ دم مرکا رکو بد کر 
سنایا تو رکار نے فربایاکہ اس می ںکولی حرج یں ہے جوم میں سے اپنے 
با وخ دے مھا ہے تو چایے ا یکو دے اتی۔ 

عن عوف بن مالک الاشجعی قال کنا نرقی فے الجاھلیة فقلنا یا رسول الله 
صلی الله علیہ وسلم کیٹ تری فی ذلگ فقال اعرضوا علی رقاکم 
لاباس بالرقے ما لم یکن فیہ شرگ (رواہ المسلم) (۱۹) 

تیم :۔ حفرت عوف بن نک رضی اش فقالی عنہ نے فریااکہ جم جاہلیت 
میں و مکرتے تھے تو بحم نے سرکار صلی اوہ قالی عليے وم سے عری قک 
پارسول اللہ صلی الد تقاٹی علیہ وس میا فرہاتے ہیں اس میں تو رود حالیم صلی الد 
قالی علیہ وعلم نے فراا سن ابنا دم میں فیا یاکہ جس دم میں مات ت 7 لے 
ہوں اس می ںکول حرج نمیں اتیل 


۱ 


"۸00 


تا رس دب ند تد بن اباب نت نت رت 


عن عائشة رضی الله تعالی عنہا ان النبی صلی الله علیہ وسلم کان 
ینفث علی نفسہ فی المرض الذڈی مات فیہ بالمعوذات فلما ثقل کت 
انفث علیۃ وامسح بیدتقسہ لیرکتھا (رواہ البخاری) )٠٢(‏ 

برجم :۔ ام المومتین حفرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عقائی عنا فا 
ہی کہ نب یکریم صلی الد فی علمی. وحم نے جس عرش میں وصال پایا اس 
یس معوذات پنب ھکر اپنے کم شریف پر د مکرتے تھے اور بکھر جب سرکار 
کا عرش بھاری ہوا تو میں معوذات بش ھکر سرکار جرد مکرٹی تی اور ب ریت 
کے لئ سرکار کے بانھھ سے سن عک ری خی انی۔ 

وریث آم: 


عن عمرو بن شعیب عن اپبیہ عن جدہ ان رسول الله صلی الله علیہ 


وسلم قال اذا فرع احدکم فی النوم فلیقل اعوذ بکلمات الله التامات من 


غضبہ وعقاب وشر عبادہ ومن ھمزات السشیاطین وان یحضرون فانھا 
لن تضرہ(الحدیث) )۲٢(‏ 

رہم : عم رکاز دوھالم صلی ادقر تعالی علیہ وسلم نے فرمااکہ جو تم یس سے خواب 
میس ڈرے تو اسے چا یئ ىہ مات ےہ اعوز لات ال اتامات 7 


حریٹث مم 


وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھا من بلغ من ولدہ ومن لم یبلغ منھم کتبھا 
فے صک ثم علقھاف عنقہ (رواہ ابوداؤد و الترمذی) )۲٢(‏ _ 
ترجمہ:۔ نعنی حضرت عبدااش ین عمرد بھی کرات ابے بالغ یں کو سکععاتے 


تے اور ماباعغ ہیوں کے لے لک ھک رگمرون میں فلجاتے تھے اتی 


تعویذ کاشرعی مک لی 


و دک ا ا تہ ہکاہک اہ ہہ وس و سس ا ا ا ا ا ال اس ال ا اس اس ا 


2 3۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵۵0۵0دددددہ 


لے 


راو تعریذ کاشرعی حکكم الکن 


رورہ اعاریث مہ سے ۔ ام ایت ہوا کہ قرآن بر اور اوعے 


ماورہ پل کر و مکرنا یش کبیا پابدعنا ٹرھا جائز اور مب 


ے۔ اورای طرح ء ساگوا : ا رضوان کا عمحل ہاے۔ 
ایر اسی طرح محرخی ن۔کرام و متماء عظام کے اقوال سے بھی تحویز 
ناک ھمگروع میں پایرساء مکرنا ایت ہے۔ 


اثوال دن عظام وا کرام 

ثول اول: 

حر ث کویر حاقطا این مر ستلالیٰ رم انٹر علے ٌُ اباری شرع اتی میں 
یں۔ 

وقد اجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلائة شروط ان یکون 
بکلام الله تعالٰی او باسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی او بما یعرف 
معناہ من غیرہ وان یعتقد ان الرقیة لاتوثر بذاتھا بل بذات الله تعالی 
واختلفوا فی کونھا شرطا والراجع !نہ لاہدمن اعتبار الشروط المذکورہ 


ففی صحیح مسلم من حدیث عوف بن مال قال کنا نرقی فی _ 


الجاعلیة فقادا یارسول الله کہ کیف تری فے, ذلک فقال اع ضا 
رسول تری ھی ل اعرضو 


رقاکم لاباس بالرقی مالم یکن فیہ شرک ولہ من حدیث چاہر نہی . 


رسول الله صلی الله علیہ وسلم عن الرقی فجاء آل عمروبن حزم 
فقالوا یارسول الله ہا انہ کانت عندنا رقیة نرقے بھا من العقرب قال 


فعرضوا علیہ فقال مااری باسا من استطاع ان ینقع اخاہ فلینفعہ الخ (۲۳) 


ھکذا فی عون المعبود شرح ابی داؤد )۲٢(‏ 
وکذا فی المواہب اللطیفة (۲۵) 


سس 


6260666226 


۵۵۵۵۵ ۵۸۵۵3۵۵۵۵۵۸۵۸۵(۵۵۵۵۵۵۵۳۵۵3۳۵0۳ ۵۵0002202 


ؤڈظۃ 


را7 


ثول دوم: 
حفرت بن علامہ فرٹی سی ری 
فیہ دلالة علی جواز الرقی من کل الا لام وان ذل کان امرا معلوما 


ینبم قب [۷۹) ۱ ٰ 
تریمہ:۔ میتی اس میں ولیل ہے ہ رر حکی تحالیف کے لے نیز کے جواز 
سر اور سے طریقہ سلف ماشین رہنۃ اللہ حم اتین میں محریت ہے۔ 


قول سوم: 

ام الیرشین ُ عبدالن قرس سرہ فریاتے ہیں۔ 

و ازینجا جواز اویختن تعویذات درگردن معلوم میشود و بعضے علماء 
را دریں جا اختلاف است مختار آں است کہ تعلیق حرزات و مانند 
آں مکروہ است اما اگر قرآن یا اسماء الٰہی تعالٰی بنویسند ہاکے نیست- 
۸۵م 


ثول تما ر۳: 


جازت الرقی من کل آیة اذا کانت بما یفھم وافضل ذلل وانفعء الرقیة 


باسماء الله تعالی وکلامہ العزیز وکلام رسولہ صلی الله علیہ وسلم (۲۸) 


قزل جم 


اور 2 حقرت علامہ روم عبرالوامر سوحالی أ 0 وال کے اب ضس 
ٹرماے یں۔ 


ہو کو ہکم کو کرل ہہ کر ہن کہ کہ رنہ کر کہ کر کہ سس کہ کہ ھا کر کہ کہ کم ۱ و 


بٹینسٹیئٹبرٹبریٹبینرییوٹشیشالٹبئبپرییننپ ین ٹن ربہر ہبہ 


تعویذ کا شرعی ُ فیحد 
وال: 0 


ماقولھم اندر آنچہ دعاء نوشتہ تعویذ نمودہ در کلوکو دکاں اندا ختن 


تواب: ٰ 
الظار انہ یجوز لما فی الطریقة المحمدیة اما تعلیق التعویذ فلا باس بہ 


ولکن ینزعہ عند الخلاء والقربان کذا فی التتار خانیہ اقول ومما یدل ٭ 


علی مشروعیة تعلیق التعویڈ فی العنق ماذکر الشیخ الجزری فی 


الحصن الحصین واذا فرع او وجد وحشۃ او ارق فلیقل اعوذ بکلمات الله ۱ 


التعامات من عرضہہ عقابہ وشر عبادہ ومن ھمزات الحیاطیْق وان 
یحضرون وکان عبدالله بن عمرو یلقنھا من عقل من ولدہ ومن لم 


یعقل کتبھا فی مک ثم علقہا فی عنقہ انتہی' فکتابة هذا التعویذ ۳ 


وتعلیق ذلل فی عن الطفل من الصحابی دلیل المشروعیة فمن انکر 
ھذا سے و و شی ْ 
قخ 


اور علامہ جح عبدائن حدث وپلوی فرہاتے ٹل ازیں جہت است وہ رقیہ 
بقراں و اسماء الله و صفات دے خاصۃ نباشد وبالجملة اجماع دارند 


علماء امت نیز کراہت رقیہ بغیر کتاب الله واسماء و صفات وے تعالٰی 


شانہ واعظم رقیہا قران عظیم است )٠٣(‏ 

رًأورہ اقوال سے بھی سے امر ثایت ہوا کہ قرآن یر اور او 
ا تورہ اور کلام رسول الر گی الثر تعائی علے وم مل کر و مکرنا اور نتویز بنا 
کر گے می باندھنا شرعا جائز اور تخب سے اور اسی بر تقریما سلف صات: 


۲ب٣‎ 7۳۰۶٣) ()ع)‎ 


ٰ 0072 


۵3۵00٥‏ ق00 ۵۳۵۵۵۵۵۵۵3۵۵۵ ۵ ۵۵۵۵۵9تہ/ 


کا ام بلاد اسلام میں نل بپاہے۔ کما لایخفی- 


برادران اسلام: 


اب ۲ آپ بے ا رض 
ا ان سے عدم جواز بر استدلا لکرتے ہیں۔ مین ان کا ہے استترثال بل 


سے مب خمیں جاک ان شاء اور آگے زک کیا جات گا۔۔ 
اعاوہث مہا رکہ 


حدیث اول: 


عن زینب امراۃ عبدالله بن مسعود ان عبدالله رای فی عنقی خیطا فقال 


ماہذا فقلت خیط رقی لی فیہ قالت فاخذہ فقطعہ ثم قال انتم ال عبدالله ٰ 


لائمنیاء عن الشرک انتہی (۳۱) 

مرج ھہ:۔ لی یب ععبرال ین صسعودکی وہ سے ردایت ہ ےکہ عبدافہ 
ین سور نے مبرب یرون میں دحا دیکھا پں سوا کیا ہیا سے ؟ ہ عو 
میس تن ےکا میرے لے و مکیا ہوا دھاگا سے میں عبذاڈقد ین مس ود نے ال 
کو ےک رکٹ ڈالا بحھ رک کہ تم آل عبداد شرک سے بے نیا ہو۔ 


حدریث دو ۳: 


عن عبدالله ابن عمر قال سمعت رسول الله ,صلی الله علیہ وسلم 


لے 


بقول ما ابالی اتیت ان انا شربت تریاقا اوتعلقت تمیمة اوقلت الشعر 


من قبل نفسی (رواہ ابوداؤد) (۴۲) 

ترجہ :۔ عبداقہ بن عمر سے عردئی ہے فریایاکہ میں نے نیک ریم صلی اود 

ای علیہ ول مکو فریاتے سناکہ خمیں پروا ہک رتا اس جا تک یک فریاقی جیوں 
یا دھاگمہ للگاؤیں اور یا اپتی رن سے اشعا رکموں اشحی 


دہ ت٠‏ 1کک کا 


2 ۵۵۵۵۸۵۷۳۷۵۵۸۸۵۵۵۵۵0د۵ہد3حدددہ 


اح 


میٹ 8 


عن جاہر رضی الله عنہ سثل قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم عن 


النشرۃ فقال ہو من عمل الشیطان (رواہ ابوداؤد) (۴۳) ۔ 

تم : حطرت جابر رضی ال تال عنہ فریاتے ہی کہ یکریم صلی الہ تقالی 
علیہ وسلم سے شرہ کے بایت سوا لیایا۔ (نشرہ جنون کا دم ہے) تو فرایا 
نشر: شا عمل ہے ائی_ 


عن المغیرۃ بن شعبة قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم من 
اکتوی اواسترقے فقد بری من التوکل (رواہ احمد والترمذی وابن ماجة) 
۲۳) 


تیم :۔ مبیو بن شحعہ فراتے می ںکہ سرکار نے فرایا جس تے راگ گیا یا 
ْ وم کروایا ٹیل بے کک ال ےمی ید ا ائی'_ ْ 


براوران اسلام : 
بی وہ احادیث ہیں جن سے صگرین جواز دم اور نیز اور وھاگہ وخیرہ کے ان 
امور کے شرک اور 7 ہوے پر استرلال کرت ہیں۔ 

اب دگھانے ہے کہ ان اعاریث مبارکہ کے بارے مس عراء 
متقبن ج کی تصابف اور اثوال بر مطرقی و مخرب کے علراء کرام کا اگبار 
ہے وہ علرائے ححقی نکیا فیا ہیں۔ 


عرث او ل کا جواب 
ان دا سے ماہکڈڑے ام رہ بے جس پر گر دا کرس 


یا ای بی ببس 


کرھز دخ رک ور دہ 


مم 6م 


۱ 0666099666660092 


ٹلریاٹیلٹبرٹبئپییینپیپیپ یننئنلنپنیلی پل یییل‪ل۶یاالتریریںنں 


نین 


۱ 


می کو پستاتے ہیں وگمہ ان کے وم میں مشرکانہ الفاظ ہوتے ہیں۔ بل 
کا توسل وخقیرہ اور اس زان می زما جاہللیت کے ممنڑرے وعیرہ بہت 
تتعارف تتے۔ اس لت حضرت عبراد رضی الہ تعالی عنہ نے اس ںممنڑے 
پنف کو شرک قرار ریا- کم قال الْثیخ عبدالحق الدھلوی۔ 
حریث وو م کا تواب 
اس حدیثکی شرع مس کل لی ار کی رت الہ قی لے فرائے ہیں۔ 
قولہ اوتعلقت تمیمة ای اخذتھا علاقة والمراد من الثمیمۃ ما 
کان من تمائم الجاھلیہ ورقاھا فان القسم الڈی پختص باسماء الله 
وکلماتہ غیر داخل فی جملة بل ہو مستحب مرجوا لبرکة عرف ذللگ 
من اصل السئة الخ (۳۵) 
اور بس عاتم الحعدین اہ عبدائجن ویلٹی اس حدی کی شرح میں 
فراۓے یں۔ مراد تمائم جاہلیت ست مشل مہرہ و ناخن درندہ پا و 
استخوانہائے ایشاں و اما آنچہ بقرآن و اسماء الٰہی باشد خارج است 
ازیں حکم و مستحب است تعلق و تبرک بداں ۱ھ )۳٣(‏ 
نی حریث پاک میں جس نحوی نکی مافحعت لی ا سے مرا زماۂ 
عاہلیت کے تویز ہیں جن می الفاظط شرب ہوتے تھے۔ ان کا بتانا اتعرال 


کرنا عرام ہے۔ بای ار تحویز فرآی یت کہ یا اساء لی سے ہے وے۔ 


حائز بلہ ‏ جب سے۔ 


حوریث سوک م کا تواب 
اس عد شی شرع می شا صلی کاعد ات ہیں۔ 

پس مراد بآنچہ او را از عمل شیطان داشتہ رقیہ خواہد بود کہ از 
عمل شیطان جاہلیت سے بر اسماٹی اصنام وشیاطین یا بزبان 


یا ا کک کی کی 


مم ہچ 1م رہ( مم رم ام( مر مم 1مم رہم م1مم :م :مر مم 1م /م مم مم ام م۸مم مم 


بشاسبپئئدروسن0ئٹئیسی۶یئ۶ش0ساا0ا 00 70|000900200000000000آہ 


ر 


72 تصویذ کا شسرعی ح کیہ 
عبرانی کہ معادم نیت معنی آں نہ بقرآن و اسماء الله تعالٰی ۱م (۳۵) 
نی اس سے ماد وہ عحل ہے سے جاہلیت کے لو ککرتے تھے 


ہو کہ بتوں کے ہام پر معتتل بھا اس میں شک الفاظط تھے مجن ار قرآل . 


آیات اور اساء ال سے عمل کے چائیں تو جائڑ ے۔ 


ال عدی ثکی شر بی بی ملا صلی اتاری ٹرائے ہیں۔ 


قولہ او استرقی ای بالغم فی دفع الامراض باستعمال الکلمات التیٴ 


لیست من اسماء الله تعالٰی وکلمات کتابہ ولا من ادعیة الماثورۃ من 


رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم فقد بری من التوکل ای سقط من ٰ 


درجة التوکل التی ھی اعلی مراتب الکمل انتہی' (۳۸) ---- 
نی دح امراسش کے لے فرآئ یآ ایات اور اسماء ای اور اوعے باٹورہ 
کے علاوہ اور آھا۔ ت استتما لکرنا نی نکی شان سے بعر ہے۔ خیال رے 


کہ زم جاہلیت میں واغ اود مکو وٹع مرش کے لے مستھل علت ملا چاتا_ 


تھا۔ اس لئے حور انور لی ایر تعالٰیٰ علے کم نے ا کو وی سے 
خلات فرار ویا- 


لیا مدگورہ اعاویث مپارکہ ے تل حدشی کرام کے اقوال 


۱ بی سے گے ان احادیث مبارکہ میں جو بھی خی وارد نہوڈی اس سے عراد ٰ 


ایسا محزیز پامگنڈا وظیرہ ہے جس پر الفاظط شرکیہ اعتعمال ہو۔ بای الیسا تتویز یا 
رما ہو کل رآ آیات ت اور اماء 1 اور اوعے افورہ بر مصعخل ہے وہ جائز 
کہ تب ہے اود اسی پر قدرہا لف مائین کا تام بلو اسلام می عمل 
ہوا ہے۔ اور جو اس کا انار کرت ہے اس کا انار معقبر ٠ئیں۔‏ اور اسی 


رح نیز ویر پر ااقرت لیت شرما جائز ہے جس کا جواز احایث گج اور 


دی (م ۷ )۷ ۱)۴ )/ 


,ا 


0007000-000-0000 001-0070-0000 000 نئئ فا 


کہ 


"ای 


7+ 


تا کرام کے اقوال سے ثابت ہے۔ 


وت از احاودیث مرارکہ و اقوال عطا ءگرام 
عریث اول: 
عن ابن عباس ان نفرا من اصحاب النہی صلی الله علیہ وسلم مروا 
بماء فیھم لدیغ او سلیم فعرض لھم رجل من اہل الماء فقال ھل فیکم 
من راق ان فی الماء رجلا لدیغا او سلیما فانطلق رجل منہم فقراء 


ہفاتحة الکتاب علی شاء فبرا فجاء بالشاء الی اصحابہ فکرھوا ذللگ 


وقالوا الخذت علی کتاب الله اجرا حتی قدموا المدینة فقالو یارسول الله 
اخذ علی کتاب الله اجرا فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان احق 
ما اخذتم علیہ اجرا کتاب الله رواہ البخاری وفی روایة اصبتم اقسموا 
واضربوا الی معکم سہما(الحدیث) (۳۹) 
و روایت حضرت عبداشہ بن عباس رضی اللہ تقالی حتما سےکہ نی 
کریم صی اللہ فقالی علیہ وسلم کے تحاب ہکی ایک جناع تمس یمھاٹ پ ھگزری۔ 
جن میں ایک مانب نا جچھو کا ڈسا ہوا تھا۔ ت گناٹ والوں میں سے ایک 
یس ان کے پاس آکر بولایا تم می ںکوٹی و مکرتے والا ہے۔ محھاٹ میں 
ایک شخخص جو یا سانپ کا ک اما ہوا ہے۔ تو علیہ کرام میں سے ایک 
ماف گج بکرمو ںکی شرط حر جلے گئے۔ سورة* فا تمہ پڑھ وی اور وہ اچھا ہ وگیا- 
وہ ان ساتھییں کے پال کچھ بکریں لائے۔ عل کرام نے بلپست دہھیں۔ 
و پولے تم نےکتاب اللہ پ ارت کی ہے یہاں ت ککہ یہ منورہ آئے 
لے سی ار گی ار تعالی علے 7 انوں تن ےکتاب القد بر اخرت ل ی 
تب رسول اہ صلی اللہ توائی علیہ وسلم نے فرایاکہ یقن اعت لے 


ٹا ئ لال 


اح 
طك6 مم 


یا کی کک کی ری کی 


ماس ابس ابس ابس وس ارح ساب اس ارس ارس انح اس انح اح اح اح اوح اح اح بح اب اح اح اح بح ابس ارح انح انس انس ارس ارح اس وم ) 


۱ 


پاب اباب اپ اپ پاٹ پاٹ ات اب ای ایا 


ٰ 02 0320202د0دددددہ 


'ۓ 


راد اہ اہ اہ ہیں 


ر7 تعصویذ کا شسرعی حکسم نا ی)ں 


کے سب سے زیادہ لال نکتاب ار ہے_ ایر ایک روایت میں یں پےکہ 
م نے ھی ک وکیا بانٹ مو او اپ سائھ ہمارا حصہ بھی رکھو۔ اتی ا در 
ای حدی تکی شرح میں ملا عی نفاری رت الد قواٰی علیہ فرراتے ہیں۔ 

فیہ دلیل علی جواز الاستجار لقراء ة القران والرقیة یہ الخ )۷٢(‏ 

ار ئا اہ عبدا لق محدث وبلدی رح الد علیہ اس حدی کی شرح میں ہیں 
ران ہیں۔ 


فراے ہیں۔ 


میٹ دوم: 


عن ابی سعید الخدری ان رھطا من اصحاب النبی صلی الله علیہ 
وسلم انطلقوا ۓے سفرة ساقروها فنزلوا بحی من احیاء العرب فقال 
: بعضھم ان سیدنا لاغ فھل عند احد منکم شی ینفع صاحبنا فقال 
رجل من القوم نعم واللہ انی لارقی ولکن استضغناکم فابیتم ان 


تضیمونا ما انا براق حتی تجعلوا لی جعلا فجعلوا لہ قطیعا من الشاء ۔ : 


فاتاہ فقراء علیہ ام الکتاب ویتفل حتی براء کانما انثط من عقال قال 
فاوقاھم جعلہم الذی صالحوهم علیہ فقالوا اقتسموا فقال الذی رقی 
لاتفعلوا حتی ناتی رسول الله صلی الله علیہ وسلم فنستا مرہ فغدوا 
علی رسول اللہ صلی الله علیہ والہ وسلم فذکروا لہ فقال رسول الله 
صلی الله علیہ وسلم من این علمتم اتھا رقیة احسنتم اقتسموا واضرہوا 
لی معکم بسہم(الحدیث) )۲٢(‏ 

تھے : حطرت ابرسعید خدری ری الہ تال عنہ سے روایت ہے کہ نی 
ریم صلی الد فقالی علیہ وم کے انا بکی ایک جاعت سف مکرردی تھی۔ 


رم۴ 


220222220 


ھا 


ددددددحدددددددددددددددددددددددددددددہ 


رو مم 


رز تعویذ کا شرعی حک حا 


بس و عرب تے ایک تل ران انترے۔ آن نین سے لفن ت ےکنا 
ہمارے مردا رکو سمانپ نے ڈس لیا ہےہکیا تم مس سے کسی کے پا ںوی 
ایی ہز ےکہ جس سے ہمارے مرا رکو ففع جچئے۔ جاعت میں سے ایک" 
ےکھا ہاں خحداکی مم میں م۶ لروں گا لیکن جھم نے ت کو ہمان نوازی کا 
کیا گن تم نے ضیافت سے افقا رکردیا۔ مزا میں اس وقت کک دم نمیں 


کروں گا جب کک تم میرے سا کچھ متقرر ہککروں لی انمھوں نے بکریوں 


کا ایک گلہ حل ےکریا۔ میں اضعالی نے اکر اس پر سورہ فاتمہ انی اور 
نیکارا لو وہ ۶ جدرست ہہ وگیا صے رسساں عح لگ ہوں۔ 
.یں انموں تے وعدے کے مطِنَ مزرانہ ین گرا انسیاب کین 
ج کہ تنس مکرلو۔ د مکرنے وانلے تن ےکھا لیا کے یہاں ک ک کہ جم 
رسول ار سی اشْر نمی علے وع مکی بارگاہ میس حاضر ہ کر عم معلوم نے 
کے اگ روز رسول الد گی الہ تال عاے, رس جے 
سے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ دم مکیا جاتا ہے کم نے ایک ھاکیا لزا کے 
کرو اور ای ساتت مرا حصہ بھی لانا۔ اتی ۔ 
ای حدی کی شرح می صاحب عون ا لود فریاتے ہیں- 
فیە جواز الرقیة وبە قالت الائمة الاریعة وفیہ جواز اخذ الاجرۃ قالہ 
العینی ۱ھ )٢۳(‏ 
زا مذگور' احایث تی ایر اقوال محدشین عظام سے ہے 
یت ھک تی دیو ات کیا شیا جن ے شک 
مااعت میں۔ 
الہ ارگ و تما! لی سے دعا سےکہ بحرمت سیدال رین س٣ل‏ الد 
تزالی علیہ وعحم بھی ںمراہ فرفیں کے شر سے مفونا کے اور صراطا سم بر 


چوجہ م ہہ( 


۱ 


گی جٹی' کی“ ھی جھیر' جار جقر جع 
ہما مرا من نے نے ہے نے نے ا اس سے سے انح ان ان ارح ان ایح ارح ارح اح ارح ابس ارح ارح ابح اح اس ماس مارح ارح ارح اوح وس بس رس۴ 


مم اوہ الرحمن ال رم 


_ّّٰ- 

کن 

تا 
سے 
سے 


وائم ربھے۔ ایر ای پر پمارا خحاق ہککرے۔ آبین تم آمین 
والّه تعالی اعلم بالصواب هذا ماظھر لی فی ہذا الباب 
کم ات 
مد عبداہ بجی نی عز 


ماححز ومرانح 


بر شمار یام مصتف ا ماب مطبوع 
ہار شریعت حضہ ازم فی ۲۰۰۹ كڑٰ فرآنں یف 
" اساعیل لی مو ١٣د‏ تفسیروخ ا میاں مطبوھ ممر 
27 جح ۲ ْ 7 / : ۴ سعلازالرن نع حر مث ٢ےھ‏ تر غازن مطبوع حروت 
کے میں تتویز ھانا جائز ہے جب کہ وہ تویز جائز ہو ہنی ۱ : ۱ 
٣×۳ " : :‏ بج عللعہ بل مق جھ تیر بل ملع حححہ اسلوسیہ ریائش 
أ اٹ وآ ! لی ۔ ٰ 
بات مرانیہ ما اسان المیہ یا اودعیہ سے لوب زکیا گیا ہو اور ہ؛ػ ممدی اسائیل باری موی ۵۹م بھارگی شریف مطبوع کرای 
ھ عریژںل میں 4 مالعت تل ہے اں سے راو 7 ٦‏ سلمبان بن اشعت بجسائی سی ۵ے کھ من اوراور کج امراوبے طتان 
٦‏ < ےہ ۸ و یم ۱ 2 ول اور خطب مو ۰ مو خر مطموع کرای 
کے 7 7 ۰۸ سی عبرانقر محمد ین اعد قرٹی مل ۸٦٦م‏ تقر ایام الترآن مطیع وارالییاپ عصر 
س 7۸ے۰مہ ۱ - ہہ ٰ ٭ ۱ ۱ ۱ 
20 جانے ے کیا ش م رات اور آیات و اعایث ۹ عون اور شرع الی واَو مطبع وارالکتاب بروت 
و ارعیہ رکالی میں لیر کر مریقش کو يہ نیت شزام ملانا بھی ×× بح این تر مر مصتلق ‏ ععید - حخٗے ری شح باری : مطبوع جروت 
َ٭ 1 0 کے ے 1 7 لن حرث تزل ١۵٠٠ھ‏ شمد اع جات ا 
جائز ہے جنب وحائقل و فا بھی متویزات کو گے مس 1 دق مد دای تل ٥٠۵١‏ اشد اللما ٰ موم 
٢ 7‏ جم ملا لی تاری حفی حول ٦٠٠٠ھ‏ ۱ مات شوخ متل وم مطوعہ نی 
- : 1 : : 
پر سک ہر .ا مر ہآندے کت بجی اہ , _ . ٣‏ 
اکن یں ل2 ےے پاپرطھ یں ۔- کہ حویذات ٣‏ موم عبرالواعد سحوستالی موی ١٤٢۱ھ‏ بیاضل واحدل حظوطات 


س۰ىِ سمل نیپ رہد ند تنتند دن دا مہا 


۶م جس ٰ ٰ 
لم 08 


01000000010000000011000000000000000 10ن 


عااتف یل یوںل۔ ا 0- ۴ج عمرم مدعاد سندعی مث ١۲۵٣ھ‏ مواہب اللطید شر صنر خوطات 
(ورا تار روا خیار) ۱ 
٥۵ ۰‏ محمد فاضل : من یامین ص نی ھ آحت الپرایات مطبوع جحروت 
لا ولا ول دای مم کے ۲م ْ ۶1 
انگ لا لا ول0 / گآ) 


ہمان ےا انان ان ےار ابس سا ارس اہم ارح ابس اح ارح بح اس ارح ارس ارح ارس اح اح اح ارس ارس ارس ارح زس اح رس ا سم ا سا 


0تت ت۵۵۵۵۵0۵0د۵ددنددددددددجدہ 


ری 


عوائ یب 


اح فقرآن شریف سورد تماء پار٥٥‏ آعت ۵۹ 
۲۔- لین می من گمد ول دو تس خازن ِلد ا پا٥۵‏ سورد (سماء۔ مننخ مروت- 
٠×‏ پل ادن لب قد ۔ اشریف مہو سطچ سید اج ای کرای 


ّ۔ رع و الدین نطب مول ‏ سط حر - مک و ریف ص٠‏ * صشع سعید ارچ ای کرات 


شک ہل الین خطب من مب مو شریف .رطع سحید ای من کری۔ 
-٦‏ رک لی رین خیب سوق . یھ ج ۔ محوشثریف مہم مٹع سعید اچ بی مکسین :کرای 
۔ خرن شریف سودہ بی اسرائیل پا۸٥‏ آیت وہ ۱ 

۸- 2 مد اصائیل حی قد مرو سل ۱٣۳۵‏ ۔ دوح البیان ص۱۹۳ ,جن مطبوعہ مھر_ 

کا علامہ بل قدیس مرہ موق من۔ تس یل رج وص ۴ * مط ع کححبہ اسلامیہ ریاض۔ 


1- انی عبد اللہ حمد بن اعد قرٹی مو ۸ھ تام اھر ۹ص ۱۹ء مکح را رالکتاب 


الحریء مم 

١ا‏ !لی حبداللہ مد ین الد فرٹمی معوئی ۷۸* ھ ۔ تنس اسکام انقرآن ر٠١‏ ص۱۴ مطع وارالکییب 
التق٥معم_‏ ۱ 

۴۔ لی عیداللہ محمد جن احد قرٹی مو ہچ ھ ۔ تقسی امام القرآن ج ۰و .ہر مطع رارایاب' 
اتی ھی ْ 

ار( ار( اہی ۰)۰ م7۴) ۰٣م۴)‏ 1مم( 


20222227 222۵000000200000 ۵۵ 72ہ : 


22222222 ۵۵۵۵۵۵۵۵۵02دندددندحنہ ' 


لی 


حد* 


۳- ا ی برا مد بن اعد قرٹی موق نے ۔ تفحسیر اکاس القرآن رخ١١‏ ص٢٣‏ میٹ داراکتاب 
اسرب یء عمفر_ 


٢)]۔ہ‏ ا مد فاضل بن بامین معوفی من۔ فحت البرایات ء ٍتومیف الفایات ٣۱٢‏ طبرو برہت۔ 


۰٦ك-‏ کا دی اندین الب سز ۔ ٭ج ھ ۔ “تک شریف دم مطبحع سعید اچ ایم یی کرای 


۱ ٦-۔‏ حمد بین اسسائیل بھاری مو ٢۲۵ھ‏ بھاری شریف جلد دوم مجت۸ مطبدم کراجی۔ 


ا۔م ول الین اقب سو مک وشریف وووسلع سید اچ ای کیچ دکرری۔-- 
دہ ایل کن الھب سوق ۔۔ ریف ددع امس ہچ 
‌- لی الین الطیب مرف ہی ۔ سک شریف مں ددم مطبع انچ ایم سعی سی :کراتی۔ 
۲٢‏ ای عداللہ محمد ین اسائیل بناری ۔ بھاری ٹریف رح۲ ۰مہ مطرھ کراتی۔ 

بج وی الدین الطف موق ٠‏ دہ . مقلولوشریف مہ ٣۱‏ مع سحید اچ ای مکی ءکراتی۔ 


ِ ۔ ۔ مل شریف مہ ۱ مع سمید اچ ای مکی ؛کرای۔‎ ھ٤٠‎ ٠ کا ولی الدین الطیب مو‎ -۲٦ 


۔ بن ان خ رسلا موی جدھ ای شرع باری جلد ۱١‏ ص۱۷۷ مطیع دارارفہبیریت- 

۲ ین خ رمستن وعدم ۔ عون الو شرع لد رائر جلدم ص۱۴ مع داراعرذہ بیروت۔ 

7 معدوم محمد عاہد افصاری مدلی مو ثی ۱۲۵۰ ۔ ا لواہب اللطید رح مسیر !یام او عنیز ر٣‏ 
ص ٣۷۳٣‏ حطوطات_۔ ۱ ْ ْ 

× ناد ہراکان ےم لگند درد شس .مل پیر 
لِ ۱ 

ع۴ کا درم عبدالداعد سوستالیٰ موق ۴۲۴ - یا را حدی ٣‏ ص ۵ػ٢‏ خظوطات۔ 

۸ اہ عیدائ٠ن‏ ححرث وادی مو س۷۳ اھ ۔ اعت اللمات شرح مگول رجح ص۴س مطحع پامارء 
لیے ۱ 

۹۔ بب وی ادرین الطیب متوفی ہے یہ ۔ مک وہشریف سردم مطع سحید اچ ای مکی کرای 


فا( لا الا وکتاولی 


39230222220020 امم مم ۱م ۱مم (م ام 1م ۱م 7۶1 (م ام( مم ام رما 


ین 


ت57 000000000000ت00101010100000000000000ہب۔ 


)072 تویڈذ کاشرعی ُ کہ 


1۰ ول الدین ایب متوئی ٠‏ ٭ط ھ ۔ مہیں ہی ہو ڑیتھ 


ای کے ولی الدین ایب مو ٠‏ پل وھ ۔ مھک وو شریف س۹ ۸ء مت سفید اچ ایم نی ؛کرای۔ 
۱ ۴۲۔- وی اہین ایب سو ۔ ٭ےھے ۔ مفکوشریف ص۸۹ مع سعید انچ ایم می :کرای 


۳ نی فاری شی مو ۱۲۴٭وھ ۔ مرات شرح مت و:۰۹ن مض ارح المطاع ڑی- 


/ ۴۲۴۰ عبد اف حدث دیلڑی مونی جے۔ ٥٦ھ‏ ۔ اشۃ لمات شرع سواہ سا مت نار 


للموۓ 
۵۔- عی لاق حدث وازق سو ہی ۔ آشد 
آمبی 


بن لی تاری فی ول ۷۷٠۱ھ‏ ۔ رجات شرح منکولص٭ اد جم مطبوعہ ار اطع ؛ مسی- 
ٰ ےہ بک وی ادرین الطیب موئی ھے یر مککووشریف ص ہہ مطبع سعید ایج ایم این مکرای۔ 
5 لص ماری مو ۳٠۱ھ‏ ۔ مرقات شرح متکولہ ج۷ ص۷ ملع کہ ایدادی ہ لان 


۹۔-۔ نے عبدائن محدث ویلدی مزثی ۳۴۳ھ اشن الفحجات شرخ کولس ۷۹ رج ٣‏ مع ر ار ار 


۴۳۴۲م سلببان ابین اشحث بجستالی منوٹی ۵ہ ٣ھ‏ سفن ای راز رج ٣‏ ص۸۸۴ مع ککحہ ابداے ؛مطیانں۔ تَ 
1م مسلبان ین اشحث بعانی سولی مہہ مم عون الم ود شرح الی داد جء مطبع دارالکتاب العری ٠‏ 


کررت-۔ 


ا اح مار؛ : ۱ 


۱ 


0, " 


رات 


تو پزات کے معلہ میس لوگو ںک یکتی آراء ہیں۔ مچحضوں کے نزویک عو یزات 
گی عیقیت ہم برستی سے زیاد کچھ نیس او کی لوگ پر طرح کے تو بزات خواہ کاذران و 
متش رکا کات پر ہی مشت لکیوں ند ہو ھا یں اس لے می ملا سک 
اعترال ے ے 

نارق رضوے جلد وجھم میں ہے <علیات و تحویز اساۓ الٰی وکیام لی سے 


ْ ضرور جانز ہیں ج بک ان می ںکولی ربقہ لاف شر ہو من کولی لف یر معلوم امن 


جیے نیقی رمضان ممیمون اور دعائے وع طاعوان میں طوسوسا حاسوسا باسوسا ا سے الا کی 
احمازت گیل جب کک عدعث با آخار ما افوال مشارح مننقرین سے جات نے تو وی رح 
صرع ری و کے تع زکہ مرغ کے خون سے اکھت ہیں ىہ بھی انز ہے لوضی حب و محر 
کے لن بعتض تحییزات وروازہکی جوکمٹ میں وش نکرتے ہی سک آتے جاتے اس پھ پا 
پڑے پی بھی نوع وخلاف اوب سے اسی طرح وہ مقصوو جس کے لئے محویز یا عھ یکا 
جاے؟ اکر لاف شرع ہو نو جاجائز ہوجا ےگا جسے عورجیں شوہ ر کے لے مخوی زکرٹی ہیں 
عم شرع کا عکس ہ ےک اللہ تعالی نے شوہ کو حاکم بنایا ہے اسے لوم بنانا عورت پر 
جرام سے شی نظریق و عداوت کے مل وویزکہ مارم میں گے جائیں ملا ھا یکو 
بھاٹی سے جا کرنا افطع رم اور نی ترام 7 غرض ففض عل پاتیزیں؟ او 
حون دب اص لد سر دہ چب وع رای سم ری خر سے 
وو و موجب ابر“ 
شر ول اللہ ماب راڑی ر7 لے قول ا اتیل میں رام ہی ںک گوس نے 
حضرت والا سے سن اکہ اتا بکہف کے نام مان ہیں ڈوپےٴ مجِلۓ اور تار ت” ری اور چوری 
سے“ اس یکناب مس یک اور مقام پر حضرت اہ صاحب فربائے ہی ںہ ا 
ےد رت یں ای 





اخ متتقبت شریف جج 


کرت میں یاد یی رک وکس بی ےکی سے جم 
۱ کے لہ روہ جائیں کے اب زندگی سے یم 
6 ب ہے سم 
ٰ واپت برتوں رہے ال بر رد سے 
کیم کی ےھ 
کا ور قریب اوس ے بن 
رہتد سے اتا ہے پتھ راک پر چافڑا 
ٌ۲ ان ٹیش پائیں کے اس دکٹی ۔ 
ار ٹیش نے عر ان تر ۱ 
واہس ہوگۓے یں کیا ی کل . 3 کچھ 
نی کل می شع مق عبدلظہ سے جم ٰ 
7 سد ا انسین بعر 
حرش جزآن اکا ہے آرے حےہ - 
گکرتے ہیں ہے ری ھا اس کی سے جم 


از مرلری رگ اعدبدالن 
ل 








١ 
۲